سلاٹر ہاؤس کے نام پر انسپکٹر راج قبول نہیں ، غیر قانونی مذبح کے مالکوں کو وقت دیا جائے : طارق انور

Mar 30, 2017 08:17 PM IST | Updated on: Mar 30, 2017 08:17 PM IST

نئی دہلی : لوک سبھا میں این سی پی کے لیڈر، پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور سینئر رکن پارلیمنٹ طارق انو رنے آج پارلیمنٹ میں وقفہ صفر کے دوران سلاٹرا ہاؤس کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے آج سرکار سے اپیل کی ہے کہ اس کاروبار کو کمیونلائز نہ کیا جائے ورنہ معیشت پر اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے ۔ مسٹر طارق انور نے کہاکہ جس طرح سے قانونی اور غیرقانونی کے نام پر انسپکٹر راج شروع ہوا ہے، اس کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سرکار غیر قانونی سلاٹر ہاؤس بندکرے لیکن ان لوگوں کو اتنی مہلت تو دی جائے کہ وہ لائسنس اور دیگر ضروری چیزیں حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کیسے کسی کو بے روز گار بناکر سڑکوں پر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے گا۔

انہوں نے سوال کیاکہ کیا اس سے انارکی نہیں پھیلے گی۔ طارق انو رنے نامہ نگاروں سے اس پورے مسئلہ پر بات چیت کرتے ہوئے سرکار سے روادار رہنے اور رواداری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہاکہ بیف یہ کسی قوم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ کاروبار ملک کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر بیف کو بندکیا گیا تو اس سے دودھ کی پیداوار متاثر ہوگی۔ طارق انور نے مزید کہاکہ اس سے کسانوں کو دقتیں آئیں گی اور ان کی خود کشی میں اضافہ ہوگا۔

سلاٹر ہاؤس کے نام پر انسپکٹر راج قبول نہیں ، غیر قانونی مذبح کے مالکوں کو وقت دیا جائے : طارق انور

انہوں نے کہاکہ اس کاروبار سے ملک کی معیشت وابستہ ہے اور ملکی معیشت کو برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ انہوں نے اس کو قومی مسئلہ بنانے کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے ہندو مسلمان سب وابستہ ہیں اور سب سے زیادہ ایکسپورٹر ہندو ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اب یقین دہانیوں سے اوپر اٹھ کر سرکار کو عملی میدان میں قدم رکھنا ہوگا۔ انہوں نے قریش برداری کے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ اس کو قومی اشو بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سے یوگی سرکار غنڈوں کے آگے ہتھیار ڈالتی نظر آرہی ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔

انہوں نے کہاکہ لاء اینڈ آرڈر کو کسی کے بھروسے نہیں چھوڑا جاسکتا ہے بلکہ قانون کو اپنا کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے قانون کے رکھوالوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کو یرغمال بنانے والوں پر سختی کا مظاہر ہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ سلاٹرا ہاؤس کا مسئلہ ملک کی معیشت سے وابستہ ہے اس لئے اس پر سرکار کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانا چاہئے ۔

مسٹر طارق انور نے کہاکہ گائے کہ سلسلہ میں سرکار کو یاد رکھنا چاہئے کہ مسلم بادشاہوں نے ہی اس کی قربانی نہ کرنے کا فرمان جاری کیا تھا اور گائے کے تحفظ کیلئے بنائی گئی پہلی گؤ سیو ا سمیتی کے18ممبران میں سے 7مسلمان تھے اس لئے ہندو مسلمانوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے کے بجائے سچائی کو اجاگر کیا جانا چاہئے ،ساتھ ہی انہوں نے نارتھ ایسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ایک ملک میں دوقانون کیسے رائج ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بھینس ، بکری ، مرغی ، مچھلی اور دیگر چیزوں کی ایک مارکیٹ ہے اور اس کو برباد کرنے کی کیسے اجازت دی جا سکتی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز