سیٹ شیئرنگ پر پھر تذبذب ، 298 کی بجائے سماجوادی پارٹی نے 324 سیٹوں پر اتارے امیدوار

Jan 26, 2017 12:34 PM IST | Updated on: Jan 26, 2017 12:34 PM IST

اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان بھلے ہی اتحاد ہو گیا ہو، لیکن سیٹ شیئرنگ پر تذبذب برقرار ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ کئی ایسی اسمبلی سیٹیں ہیں ، جہاں سے ایس پی نے بھی امیدوار اتار رکھے ہیں اور کانگریس نے بھی ۔ کچھ سیٹوں پر ابھی تک امیدوار تک کا اعلان نہیں ہو سکا ہے ۔ ایسی صورت میں امیدوار سے لے کر کارکنوں میں بھی کشمکش ہے کہ کس کی حمایت میں کریں۔

سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ابھی تک امیدواروں کا کشمکش دور کرنے کے لئے فی الحال کوئی آگے آتا نظر بھی نہیں آرہا ہے ۔ پہلے مرحلہ کیلئے نام واپس لینے کی آخری تاریخ 27 جنوری ہے ۔ ایسے میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں سب کس طرح ہو گا ، یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے ۔

سیٹ شیئرنگ پر پھر تذبذب ، 298 کی بجائے سماجوادی پارٹی نے 324 سیٹوں پر اتارے امیدوار

تاہم ریاستی صدر نریش اتم نے دعوی کیا ہے کہ نام واپسی کی آخری تاریخ سے پہلے تصویر بالکل صاف ہو جائے گی ۔ ایس پی اور کانگریس کے درمیان اتحاد کے اعلان کے دوران واضح طور پر کہا گیا تھا کہ یوپی کی 403 اسمبلی سیٹوں میں سے 298 نشستوں پر ایس پی اور 105 سیٹ پر کانگریس اپنے امیدوار اتارے گی ۔ تاہم اتحاد کے بعد سماج وادی پارٹی نے امیدواروں کی ایک اور فہرست جاری کر دی ، جس کے بعد اب تک پارٹی کے کل امیدواروں کی تعداد 324 تک پہنچ چکی ہے ۔ یعنی 298 سے 26 زیادہ ہیں۔ ایس پی رہنماؤں اور کارکنوں کے لئے کشمکش کی بات یہ ہے کہ ان 26 نشستوں میں سے تقریبا 20 نشستیں ایسی ہیں ، جہاں سے کانگریس کے ممبر اسمبلی آتے ہیں ، یا پچھلے الیکشن میں کانگریس نے اچھا مظاہرہ کررکھا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز