سرجیکل اسٹرائک کے بعد ایل او سی کے پاس دہشت گردوں کے اڈوں میں اضافہ ، 475 دراندازی کی کوشش میں : فوج

Sep 07, 2017 08:51 PM IST | Updated on: Sep 07, 2017 08:51 PM IST

اودھم پور: شمالی کمان کے فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل دیوراج انبو نے آج کہا کہ کنٹرول لائن کے پار سے 475 شورش پسند ہندوستانی سرحد میں گھسنے کی تاک میں ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل انبو نے یہاں شمالی کمان کی ایک تقریب کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ سرجیکل اسٹرائک کے بعد کنٹرول لائن کے پاس دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں اور ان کے اڈوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن کے پار سے 475 شورش پسند کسی بھی وقت ہندستانی سرحد میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ فوجی کمانڈر نے کہا کہ کشمیر میں کنٹرول لائن کو پار کرنے کے لئے کم از کم 250 شورش پسند ہندستانی سرحد میں گھسنے کی تاک میں ہیں ، جبکہ جموں علاقہ میں پیر پنچال کی مخالف سمت سے 225 شورش پسند بھی سرحد پار سے ہندستانی سرحد میں گھسنے کی تاک میں ہیں ۔ پیر پنچال علاقہ راجوری اور پنچھ ضلعوں سے متصل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز شورش پسندوں دباؤ جاری رکھیں گی ۔ ایک سال میں سیکورٹی فورسز نے 144 شورش پسندوں کو ہلاک کیا ہے، جن میں کئی انتہاپسند تنظیموں کے چوٹی کے کمانڈر بھی شامل ہیں۔فوجی کمانڈر نے کہا کہ سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانے ابھی موجود ہیں ۔ کنٹرول لائن کے قریب، کنٹرول لائن کے پاس سرحدپر دہشت گردی کیمپوں اور دہشت گردوں کے اڈوںمیں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، لیکن ہم نے انکے ٹھکانوں پر نظر رکھی ہے۔ گزشتہ دنوں ہماری فوج نے دراندازی کی سبھی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنایا ہے۔

سرجیکل اسٹرائک کے بعد ایل او سی کے پاس دہشت گردوں کے اڈوں میں اضافہ ، 475 دراندازی کی کوشش میں : فوج

وادی کشمیر میں دہشت گردوں کی مالی اعانت کےمعاملے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی طرف سے چھاپہ مارنے کی کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل انبو نے کہا کہ ان چھاپوں سے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرنے پر لگام لگے گی اور وادی میں پتھراؤ کے واقعات میں کمی آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے کے چھاپے نے وادی کشمیر میں پتھر بازی کے واقعات کو کم کر دیا ہے اور نوجوانوں کو مشغول رکھنے اور مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے روزگار فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل انبو نے کہا کہ مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ ہندستان کا کوئی بڑا تنازع نہیں ہے۔حقیقی کنٹرول لائن پر اختلافات کی وجہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے تھے۔، لیکن اس سلسلے میں مناسب بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز