نجیب کی تلاش میں سڑک پر آگیا کنبہ ، پڑھیں ماں ، باپ اور بھائی کا کیا ہے حال

بدایوں میں پانچ افراد کا یہ کنبہ ایک سال قبل تک ٹھیک ٹھاک طریقہ سے اپنی زندگی گزر بسر کررہا تھا ۔

Oct 17, 2017 08:00 PM IST | Updated on: Oct 17, 2017 08:00 PM IST

بدایوں میں پانچ افراد کا یہ کنبہ ایک سال قبل تک ٹھیک ٹھاک طریقہ سے اپنی زندگی گزر بسر کررہا تھا ۔ نجیب احمد کے والد نفیس احمد کا فرنیچر کا کاروبار تھا ، فرنیچر کی طرح ہی اپنے گھر کو بھی انہوں نے ایک گلدستے میں سجایا ہوا تھا ۔ نجیب جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بایوٹیکنالوجی کا طالب علم تھا ، منجھلا بیٹا مجیب ایم ٹیک کررہا تھا جب کہ سب سے چھوٹابیٹا حسیب بھی پڑھائی کررہا تھا۔

نجیب ڈاکٹر تو مجیب پروفیسر بننے کا خواہشمند تھا ، تین بھائیوں کی ، لیکن اب صرف دو بھائیوں کی بہن بھی کالج جاتی تھی ، جب نجیب جے این یو سے اپنے گھر آتا تھا تو پورا کنبہ کھلکھلا اٹھتا تھا۔ لیکن 15 اکتوبر 2016 کے بعد سے نجیب کیا گیا ، اس گھر کی سبھی خوشیاں ہی چلی گئیں ۔ نجیب کی تلاش میں والدہ فاطمہ نفیس شہر شہر اور گلیوں گلیوں کی خاک چھان رہی ہیں ۔

نجیب کی تلاش میں سڑک پر آگیا کنبہ ، پڑھیں ماں ، باپ اور بھائی کا کیا ہے حال

اب کچھ ایسا ہوگیا ہے کنبہ کا حال

والد نفیس احمد : نجیب کو تلاش کرنے میں کنبہ کی جائیداد فروخت ہونی شروع ہوگئی ، چھوٹی بہن کی شادی کیلئے جمع کئے گئے سبھی پیسے بھی خرچ ہوگئے ، بیٹے کی یاد میں باپ دل کے مریض ہوگئے اور کام دھندہ پوری طرح سے چوپٹ اور بند ہوگیا ہے ۔ اب حال یہ ہے کہ نجیب کی یاد میں والد نفیس احمد کا پورا دن پلنگ پر گزرتا ہے اور کان ڈور بیل پر لگی رہتی ہے۔ دوا کا بھی کوئی بھروسہ نہیں رہتا ۔ تھوڑی بہت طبیعت ٹھیک ہوتی ہے تو دوکان پر چلے جاتے ہیں ، نہیں تو بس گھر پر ایسے ہی پڑے رہتے ہیں ۔

Loading...

Nafees-ahmad-121

والدہ فاطمہ نفیس : والدہ فاطمہ نفیس کا بھی ایک پیر بدایوں میں تو دوسرا 275 کلو میٹر دو دہلی میں رہتا ہے۔ ہفتہ کے دو دن اس شہر میں گزر جاتے ہیں ، جہاں سے خبر آجائے کہ یہاں نجیب ہوسکتا ہے۔ فاطمہ نے کوئی درگاہ ، مسجد ، ریلوے اسٹیشن اور کسی شہر کی کوئی ایسی گلی نہیں چھوڑی ، جہاں نجیب کی ملنے کی امید ہو، یہاں تک کی سڑک کنارے بیٹھ کر اپنا درد بیان کرنے کے دوران پولیس کی لاٹھیاں بھی کھانی پڑی اور حراست میں بھی لی گئیں۔

بھائی مجیب احمد :  جب نجیب غائب ہوا تھا تو بھائی مجیب ایم ٹیک کررہا تھا۔ اب ایم ٹیک کی تعلیم پوری ہوچکی ہے۔ مجیب پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہے ، لیکن گھر کے حالات اس کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ۔ کنبہ میں پانچ افراد کی ذمہ داری اب مجیب کے کندھوں پر آگئی ہے اور اب وہ نوکری کی تلاش در در بھٹک رہا ہے۔ پروفیسر بننے کا خواب ٹوٹتا ہوا نظر آرہا ہے ، گھر میں جمع پونجی بھی ختم ہوچکی ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز