سرحد پر پاک۔ چین چیلنج کے درمیان حکومت نے شروع کی 'جنگ' جیسی تیاری

Jul 13, 2017 12:37 PM IST | Updated on: Jul 13, 2017 12:37 PM IST

نئی دہلی۔ پاکستان اور چین کی جانب سے سرحد پر بڑھتے دوہرے چیلنجوں کے درمیان حکومت نے محدود جنگ جیسے حالات سے مقابلے کی بھی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس ضمن میں ایک بڑی تبدیلی کے تحت فوج کے وائس چیف کے مالیاتی حقوق میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں براہ راست 40 ہزار کروڑ کے فوجی سازوسامان کی خریداری کا اختیار دیا گیا ہے۔

یعنی اب فوج ہیڈکوارٹر وزیر دفاع اور کابینہ کی منظوری کے بغیر بھی ضرورت پڑنے پر کبھی بھی جنگ کے لئے 40 ہزار کروڑ کے ہتھیار اور گولہ بارود خرید سکے گی۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کچھ وقت میں مرکزی حکومت نے کم از کم وار ویسٹیج ریزرو کی صحت بھی سدھاری ہے۔ یعنی ایک بار میں کم از کم 40 دن کی لڑائی کے لئے ضروری ہتھیار اور گولہ بارود کی دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

سرحد پر پاک۔ چین چیلنج کے درمیان حکومت نے شروع کی 'جنگ' جیسی تیاری

دفاعی ذرائع کے مطابق، ستمبر 2016 میں ہوئے سرجیکل اسٹرائک کے بعد سے اب تک فوج قریب 12 ہزار کروڑ کے ہتھیار اور بارود کی خریداری کر چکی ہے۔: تصویر، گیٹی امیجیز

دفاعی ذرائع کے مطابق، ستمبر 2016 میں ہوئے سرجیکل اسٹرائک کے بعد سے اب تک فوج قریب 12 ہزار کروڑ کے ہتھیار اور بارود کی خریداری کر چکی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔ دراصل، اڑی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد فوج اور سیاسی قیادت کے درمیان ہوئے ویچارمنتھن میں محدود فوجی لڑائی کے خدشات اور تیاریوں کا مسئلہ بھی اٹھا تھا۔ اس کے بعد ہی حکومت نے اہم ہتھیار اور گولہ بارود خریدنے کے لئے فوج کے وائس چیف کی ایمرجنسی پاور کو 12 ہزار کروڑ کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس سال مارچ تک فوج نے 12 ہزار کروڑ خرچ کر کے 19 دفاعی سودے کئے اور اہم ترین بارودوں کی خرید کی۔ ان میں سے 11 سودے گولہ بارود کے لئے کئے گئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز