تین طلاق کے خلاف جدوجہد میں ان پانچ خواتین کا رہا خصوصی رول

Aug 22, 2017 04:57 PM IST | Updated on: Aug 22, 2017 04:57 PM IST

نئی دہلی۔  اتراکھنڈ کی سائرہ بانو ، جے پور کی عارفین رحمان اور سہارن پور کی عطیہ صابری سمیت پانچ خواتین کا تین طلاق کے خلاف جدوجہد میں خصوصی کردار رہا جنہوں نے گھر سے باہر نکل کر قانونی لڑائی لڑی اور جیت حاصل کی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کیہر کی پانچ رکنی ڈویژن بنچ نے آج تاریخی فیصلہ میں تین طلاق کو 2۔3 کی اکثریت سے غیر آئینی قرار دیا۔ عدالت نے فی الحال تین طلاق پر چھ ماہ کی روک لگائی ہے اور مرکزی حکومت سے قانون بنانے کو کہا ہے۔ حکومت اگر چھ ماہ میں قانون نہیں بنا پائی تو پابندی آگے بھی جاری رہےگی۔

تین طلاق کے خلاف جدوجہد میں ان پانچ خواتین کا رہا خصوصی رول

سائرہ بانو

saira bano (2)

اتراکھنڈ کی سائرہ بانو نے گزشتہ سال عدالت عظمی میں تین طلاق اور نکاح ، حلالہ کے قانونی جواز کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔ سائرہ کا نکاح 2001 میں ہوا اور اس کے شوہر نے 10 اکتوبر 2015 کو اسے طلاق دے دیا۔ سائرہ کے دو بچے ہیں اور دونوں اسکول پڑھنے جاتے ہیں۔ طلاق کے بعد بچوں کی تعلیم اور اپنی زندگی گزارنے میں دشواریوں کا سامنا کر رہی سائرہ نے اپنے سرپرستوں کی مدد سے وکیل بالا جی شری نواسن کے ذریعہ طلاق کے خلاف عرضی داخل کی۔ عرضی میں سائرہ نے اپنی برادری میں رائج کئی شادی کے رواج کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس برائی کو ختم کرنے کی درخواست کی۔

عطیہ صابری

atiya sabiri

اترپردیش کے سہارنپور کی عطیہ صابری نے کہا کہ جس طرح سے اسے طلاق دیا گیا، اس کے خلاف اس نے آواز بلند کی۔ دو بیٹیوں کی ماں صابری کا نکاح 2012 میں ہوا تھا اور اس کے شوہر نے سادہ کاغذ پر تین طلاق لکھ کر نکاح توڑ دیا۔ اس کا الزام تھا کہ دو بیٹیاں ہونے کی وجہ سے اسے تنگ کیا جانے لگا اور جہیز کیلئے ہراساں بھی کیا جاتا تھا۔

گلشن پروین

gulshan parveen

اسی ریاست کے رامپور کی گلشن پروین کو تو اس کے شوہر نے 10 روپئے کے اسٹامپ پیپر پر طلاق لکھ کر بھیج دیا تھا۔

عشرت جہاں

ishrat jahan

مغربی بنگال کے ہوڑہ کی رہنے والی عشرت جہاں نے اپنی عرضی میں کہا کہ اس کے شوہر نے تو دبئی سے فون کرکے طلاق دے دی۔

آفرین رحمان

afreen rahman

راجستھان کے گلابی شہر جے پور کی آفرین رحمان کے شوہر نے اسپیڈ پوسٹ کے ذریعہ طلاق نامہ بھیج دیا تھا۔ اس نے شوہر اور سسرال والوں پر جہیز کا مطالبہ کرنے اور مار پیٹ کا الزام لگایا تھا۔

واضح رہے کہ تین طلاق کے خلاف شاہ بانو نے 1980 کی دہائی میں آواز بلند کی تھی۔ شاہ بانو نے طلاق کے بعد گزارا بھتہ لینے کیلئے عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ عدالت نے شاہ بانو کو گزارا بھتہ دینے کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز