تین طلاق : عدالت عظمی میں سماعت کا تیسرا دن ، پڑھئے عدالت میں دوسرے دن کیا کیا ہوئے سوال و جواب ؟

May 12, 2017 03:32 PM IST | Updated on: May 13, 2017 09:27 AM IST

نئی دہلی : تین طلاق کے مسئلے پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بنچ میں سماعت کا سلسلہ آج دوسرے دن بھی جاری ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی آئینی بنچ نے آج سلمان خورشید کے دلائل سنے، جو اس معاملے میں ذاتی طور پر اپنی بات رکھ رہے ہیں۔ مسٹر خورشید نے طلاق، مہر اور نکاح پر اپنا نکتہ پیش کیا۔ بنچ کے ایک رکن جسٹس روہنٹن فالی نریمن کا کہنا تھا کہ اسلام میں نکاح اورطلاق کے سلسلے میں موجودہ منظر نامہ میں ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے نظریہ اور عمل میں کتنا فرق ہے۔

مسٹر خورشید نے عدالت عظمی سے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تین طلاق کے سلسلے میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ قبیح ہے ، لیکن جائز ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مطابق تین طلاق گناہ تو ہے ، لیکن قانونی طور پر جائز ہے۔ اس پر بنچ نے سوال کیا کہ اگر کوئی چیز قابل گناہ ہے تو وہ شریعت کا حصہ کیسے ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے مسٹر خورشید سے یہ بھی پوچھا کہ کیا کسی گناہ کو خدا کی مرضی تسلیم کیا جاسکتا ہے یا پھر اسے انسانوں کا بنایا ہوا قانون کہنا زیادہ درست ہوگا؟

تین طلاق : عدالت عظمی میں سماعت کا تیسرا دن ، پڑھئے عدالت میں دوسرے دن کیا کیا ہوئے سوال و جواب ؟

سپریم کورٹ نے پوچھا کہ اگر بھارت میں ٹرپل طلاق مخصوص ہے تو دوسرے ممالک نے قانون بنا کر ٹرپل طلاق کو ختم کر دیا؟ خورشید نے کہا کہ اسی طرح کی دقتیں آئیں گی تو ان ممالک کو لگا ہوگا کہ اسے ختم کر دینا چاہئے

مہر کی بات پر چیف جسٹس نے کہا:۔

اس پر سماعت کی فی الحال ضرورت نہیں

اگر تین طلاق ختم ہوگا تو اس کے نتائج پر بعد میں فیصلہ لیں گے۔

یہاں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کچھ لوگ بیٹھ کر فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور فیصلہ نہیں ہوتا تو وہ الگ بات ہے۔

لیکن یہاں تو ایک ہی وقت پر ایک شخص چاہے جہاں فیصلہ لے لیتا ہے۔

سلمان خورشید نے کہا:۔

نكاح نامے میں شرائط لکھی رہتی ہیں ، جس سے طلاق دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

جسٹس كورين نے پوچھا :۔

کیا نکاح نامے میں لکھا جانا چاہئے کہ تین طلاق نہیں ہو گی؟ ۔خورشید کی جانب سے بحث پوری ہوگئی ہے۔

جسٹس روهگٹن نے کہا:۔

تین طلاق اسلام میں شادی ختم کرنے کا سب سے برا اور ناپسندیدہ طریقہ ہے۔

تاہم تین طلاق کو اسلام کے مختلف اسکول آف تھاٹس میں جائز مانا گیا ہے۔

سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے کہا:۔ 

تین طلاق گھنونا ہے کیونکہ اس سے خواتین کو طلاق میں برابر کے حقوق نہیں ملتے۔

چیف جسٹس کیہر نے کہا :۔ 

تین طلاق کیا روایت ہے یا شریعت کا حصہ ہے۔

ہندوستان کے علاوہ کہاں یہ قابل عمل ہے۔

بہت سے لوگ ملک میں موت کی سزا کو گناہ مانتے ہیں ، لیکن قانونی طور پر یہ درست ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز