اترپردیش اسمبلی انتخاب : ملائم سنگھ نے ڈالا اپنا ووٹ ، کہا : اکھلیش نے ترقیاتی کام کئے ، دوبارہ بنیں گے وزیر اعلی

Feb 19, 2017 08:38 AM IST | Updated on: Feb 19, 2017 03:18 PM IST

لکھنو : اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں 12 اضلاع کی 69 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ دارالحکومت لکھنؤ سمیت کئی علاقوں میں پولنگ بوتھ پر ووٹروں کی لمبی قطاریں ہیں۔ تاہم قنوج اور کانپور کے کچھ پولنگ بوتھ پر ووٹروں نے ووٹ کا بائیکاٹ بھی کیا۔ ریاست کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے سیفئی میں ووٹ ڈالا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد اکھلیش نے دعوی کیا کہ اس مرتبہ اتحاد کی حکومت بننے جا رہی ہے۔

تیسرے مرحلے میں کل 826 امیدوار میدان میں ہیں اور تقریبا دو کروڑ 41 لاکھ ووٹر ہیں۔ ووٹنگ کے لئے کل 25 ہزار 603 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ اٹاوہ سیٹ پر سب سے زیادہ 21 امیدوار میدان میں ہیں ، جبکہ بارہ بنکی کی حیدرگڑھ سیٹ پر سب سے کم تین امیدوار ہیں۔

اترپردیش اسمبلی انتخاب : ملائم سنگھ نے ڈالا اپنا ووٹ ، کہا : اکھلیش نے ترقیاتی کام کئے ، دوبارہ بنیں گے وزیر اعلی

یہ مرحلہ اس لئے کافی اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ اس میں سماج وادی پارٹی کے گڑھ اٹاوہ، مین پوری، قنوج، بارہ بنکی اور فرخ آباد میں پولنگ ہورہی ہے۔ اس مرحلہ میں شیو پال سنگھ یادو، ملائم کی چھوٹی بہو ارپنا یادو اور ریتا بہوگنا جوشی، اکھلیش کے چچا زاد بھائی انوراگ یادو، پردیش کے کابینہ وزیر اروند سنگھ گوپ، وزیر مملکت فرید محفوظ قدوائی، وزیر مملکت راجیو کمار سنگھ، وزیر مملکت نتن اگروال، بی ایس پی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے برجیش پاٹھک اور کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پی ایل پنیا کے بیٹے تنج پنیا کے سیاسی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔

سال 2012 کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے ان 69 سیٹوں میں سے 55 سیٹیں جیتی تھیں۔ بی ایس پی کو چھ اور بی جے پی کو پانچ سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس کے کھاتے میں دو نشستیں گئی تھیں اور ایک نشست آزاد امیدوار کو حاصل ہوئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز