جنوبی کشمیر میں جنگجوؤں کے حملے میں 3 فوجی ہلاک، کراس فائرنگ میں ایک مقامی خاتون کی موت

سرینگر۔ جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں آج علی الصبح فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ میں تین جوان شہید ہو گئے اور ایک عورت کی موت ہو گئی۔

Feb 23, 2017 11:48 AM IST | Updated on: Feb 23, 2017 01:40 PM IST

سری نگر۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو جنگجوؤں کی جانب سے فوج کی ایک گشتی پارٹی پر گھات لگاکر کئے گئے حملے میں 3 فوجی اہلکار جاں بحق جبکہ 4 دیگر زخمی ہوگئے ۔ حملے کے بعد جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والے گولیوں کے تبادلے میں ایک مقامی خاتون سٹرے بلٹ لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گئی ۔ جنگجو تنظیم حزب المجاہدین (ایچ ایم) نے فوج کی گشتی پارٹی پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک پولیس ترجمان نے یو این آئی کو حملے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کنگنو شوپیان نامی ایک گاؤں میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فوج کی 44 راشٹریہ رائفلز (آر آر) اور جموں وکشمیر پولیس نے مذکورہ گاؤں میں تلاشی مہم شروع کی۔

انہوں نے بتایا کہ تلاشی مہم بغیر کسی گرفتاری یا برآمدگی کے اختتام کو پہنچی۔ پولیس ترجمان نے بتایا ’تاہم جب فوج کی ایک گشتی پارٹی کنگنو سے واپس لوٹ رہی تھی تو رات کے دو بجے جنگجوؤں کے ایک گروپ نے اس پر مولو چھترگام میں گھات لگاکر حملہ کیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کے حملے میں دو افسروں کے سمیت 7 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ ترجمان نے بتایا کہ زخمی فوجی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 3 اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد جنگجوؤں اور فوجیوں کے مابین ہونے والے گولیوں کے تبادلے میں ایک مقامی خاتون جانہ بیگم زوجہ غلام محمد میر سٹرے بلٹ لگنے سے دم توڑ گئی۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ حملے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز کی اضافی کمک طلب کرکے علاقوں کو گھیر لیا گیا، تاہم جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ حزب المجاہدین نے فوج کی گشتی پارٹی پر گھات لگاکر کئے گئے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

جنوبی کشمیر میں جنگجوؤں کے حملے میں 3 فوجی ہلاک، کراس فائرنگ میں ایک مقامی خاتون کی موت

علامتی تصویر

حزب المجاہدین کے آپریشنل ترجمان برہان الدین نے ایک مقامی خبررساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ حزب کے جنگجوؤں کی جانب سے انجام دیے گئے حملے میں فوج کے 5 اہلکار ہلاک جبکہ 7 دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ دریں اثنا مولو چھترگام کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ جنگجوؤں کے حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے کئی رہائشی مکانات کے اندر گھس کر املاک کی توڑ پھوڑ کی اور سڑکوں و گلی کوچوں میں کھڑی کئی ایک گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کئے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے 4 عام شہریوں کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز