ٹرین میں تین حفاظ کو فرقہ پرستوں کے ذریعے مارپیٹ اور قتل کے واقعہ پرجمعیۃ علما ہند کا گہری تشویش کا اظہار

Jun 24, 2017 09:35 AM IST | Updated on: Jun 24, 2017 11:37 AM IST

نئی دہلی : ملک میں فرقہ پرستی اور بھیڑ بن کر اقلیتوں کو قتل کرنے کے چل پڑے تکلیف دہ حادثات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔دہلی سے تراویح میں قرآن کریم مکمل کراکر گزشتہ روزلوٹ رہے تین حفاظ کرام کوہند و شدت پسندوں نے ا س قدر بے رحمی سے پیٹا کہ ان میں سے ایک نے جائے حادثہ پر ہی دم توڑ دیا،جب کہ باقی دو ساتھی صفدر جنگ نئی دہلی کے ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہیں ۔اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد دہلی کی سرحداور میوات کے علاقے میں سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔

اس درمیان جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیت کا ایک وفد گاؤں کھنداؤلی پہنچ کرمتاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور تسلی دلائی، اس کے بعد ڈی ایس پی فریدآباد سے ملاقات کرکے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔مولانا مدنی جو مسجد رشید میں ایک ہزار متوسلین کے ساتھ اعتکاف کررہے ہیں، انھوں نے ملک کے بگڑتے امن وامان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مذکورہ سانحہ میں جمعےۃ کے مقامی ذمہ داروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر طرح کے ضروری اقدام کرکے متاثرین کو انصاف دلائیں ۔

ٹرین میں تین حفاظ  کو فرقہ پرستوں کے ذریعے مارپیٹ اور قتل کے واقعہ پرجمعیۃ علما ہند کا گہری تشویش کا اظہار

واضح ہو کہ یہ تینوں نوجوان حافظ جنید، حافظ محمد ہاشم اور حافظ محمد شاکر فریدآباد سے متصل کھنداؤ لی گاؤں کے رہنے والے تھے اوررمضان میں دہلی کی مختلف مساجد میں تراویح پڑھا رہے تھے ۔ 27 ویں رمضان کی شب قرآن مکمل کرنے کے بعد کل 22جون کو شام پانچ بجے غازی آباد ۔ پلول پیسنجر ٹرین سے صدر بازار اسٹیشن پر سوار ہوئے ۔ تغلق آباد ریلوے اسٹیشن پر اکثریتی فرقے سے تعلق رکھنے والے شدت افراد اسی ٹرین پر سوار ہوئے اور ان کے درمیان نوک جھونک ہوئی ، کہاجارہا ہے کہ شدت پسندوں نے ان کی شناخت اور ٹوپی کو لے کر گالی دینا شروع کیا جس سے بات بڑھی۔یہ تینو ں حفاظ پلول اسٹیشن پر اترنا چاہ رہے تھے ، لیکن شدت پسندوں نے ان کو اترنے نہیں دیا اور ان پر چاقو اور دیگر دھار دار ہتھیار سے حملہ کردیا ۔ حافظ جنید تو جائے واقعہ پر ہی موت ہوگئی جب کہ حافظ محمد ہاشم اور محمد شاکرموت و حیات کی کشمکش میں ہیں۔

جمعیۃ علماء کے وفد نے بتایا کہ ریلوے اسٹیشن پر اترتے وقت پولس کی موجودگی کے باوجود شدت پسندوں نے مارنے اور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ، لیکن پولس نے کوئی کارروائی نہیں کی ، بعد میں دباؤ کے بعد ایک شخص کی گرفتاری ہوئی ہے ۔ جمعیت علماء کے وفد کی قیادت قاری علی محمد رانوتہ نائب صدر جمعےۃ علماء ہریانہ، پنجاب ہماچل پردیش نے کی ، ان کے علاوہ قاری محمد اسلم گڑگاوں، بھائی خورشید احمد، قاری ناظرالحق کریمی ، قاری آس محمد ، مولانا ساجد قاسمی شامل تھے ۔اس سلسلے میں جمعیت علمائے ہریانہ پنجاب اور ہماچل کے صدر مولانا یحیی کریمی نے کہا کہ فوری طور سے ابتدائی حالات کے جائزے کے لیے ہمارا وفد وہاں گیا تھا ، تاہم اگر ضرورت پڑی تو ہم اعتکاف توڑ کر جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی صاحب کی ہدایت ہے کہ ضرورت پڑنے پر اعتکاف توڑدیں اور مظلوموں کو انصاف دلائیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز