امرناتھ یاتریوں پر حملے میں ملوث سبھی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا: جموں وکشمیر پولیس

Dec 05, 2017 12:53 PM IST | Updated on: Dec 05, 2017 02:40 PM IST

سری نگر۔ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے قاضی گنڈ میں سری نگر جموں قومی شاہراہ پر پیر کی دوپہر جنگجوؤں کی جانب سے فوجی قافلے پر حملے کے بعد طرفین کے مابین شروع ہونے والا مسلح تصادم دو غیرملکی سمیت لشکر طیبہ کے تین جنگجوؤں کی ہلاکت اور ایک جنگجو کی زخمی حالت میں گرفتاری پر ختم ہوگیا ہے۔ مسلح تصادم میں فوج کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا ۔ اس سے قبل قاضی گنڈ کے نسو بدرا گنڈ میں ہونے والے اس جنگجویانہ حملے میں فوج کا ایک اہلکار زخمی ہوا تھا۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید کا کہنا ہے کہ مارے گئے تینوں جنگجو رواں برس 10 جولائی کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں یاتریوں کی بس پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔ اس حملے میں کم از کم 8 امرناتھ یاتری ہلاک جبکہ ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس سربراہ نے قاضی گنڈ مسلح تصادم میں مارے گئے پاکستانی جنگجوؤں کی شناخت فرقان اور ابو معاویہ جبکہ مقامی جنگجو کی شناخت یاور بشیر ساکنہ ہبلش کولگام کے بطور کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابو اسماعیل کی ہلاکت کے بعد فرقان کو لشکر طیبہ کا ڈیویژنل کمانڈر بنایا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فرقان، ابو معاویہ اور یاور کی ہلاکت کے ساتھ امرناتھ یاتریوں پر حملے کے ملوثین کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر وید نے اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا ’پاکستانی جنگجو فرقان جس نے اسماعیل کی ہلاکت کے بعد لشکر طیبہ کے ڈویژنل کمانڈر کی رینک سنبھالی تھی، کو قاضی گنڈ مسلح تصادم میں دوسرے ایک پاکستانی جنگجو ابو معاویہ کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔ یہ سیکورٹی فورسز کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے‘۔

امرناتھ یاتریوں پر حملے میں ملوث سبھی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا: جموں وکشمیر پولیس

ہندوستانی فوج: فائل فوٹو

انہوں نے کہا ’مسلح تصادم کے مقام سے تیسرے جنگجو (جو کہ مقامی ہے) کی لاش بھی برآمد کی گئی۔ چوتھے جنگجو کو زندہ حالت میں زندہ گرفتار کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’پہلے ابو اسماعیل اور اب ان تین جنگجوؤں ابو معاویہ، فرقان اور یاور کی ہلاکت کے ساتھ امرناتھ یاتریوں پر حملے کے ملوثین کا صفایا ہوگیا ہے‘۔ مسلح تصادم کے مقام پر گذشتہ شام احتجاجیوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں تین عام شہری زخمی ہوئے جن میں سے سہیل احمد خان نامی ایک شہری گولی لگنے سے زخمی ہوا ۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ پیر کی دوپہر قریب پونے ایک بجے فوج کے قافلے پر حملہ انجام دینے کے بعد جنگجو جس نجی عمارت میں داخل ہوئے، کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا یا گیا۔ انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا’ قاضی گنڈ کے نسو بدرا گنڈ میں جنگجوؤں نے فوجی قافلے پر حملہ کیا۔ اس حملے میں فوج کا ایک اہلکار زخمی ہوا جس کا فوجی اسپتال میں علاج چل رہا ہے‘۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حملے کے مقام سے فرار ہونے کے بعد جنگجو نذدیک میں واقع ایک نجی عمارت میں داخل ہوئے۔ انہوں نے بتایا ’تاہم سیکورٹی فورسز نے مذکورہ عمارت کو فوری طور پر محاصرے میں لیا۔ اگرچہ جنگجوؤں کو خودسپردگی اختیار کرنے کے لئے گیا گیا، تاہم انہوں نے اس کے بجائے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی‘۔ انہوں نے مزید بتایا ’فائرنگ کے تبادلے میں تین جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ ہم نے اس مسلح تصادم میں اپنا ایک جوان کھو دیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں تلاشی آپریشن پیر اور منگل کی درمیانی رات قریب 2 بجے اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مسلح تصادم کے مقام سے فرار ہونے والے ایک جنگجو کو ضلع اننت ناگ کے ایک اسپتال سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا ’وہ زخمی حالت میں تھا‘۔

ایک رپورٹ میں گرفتار شدہ جنگجو کی شناخت حمزہ پورہ سنگم بجبہاڑہ کے رہنے والے رشید احمد کے بطور کی گئی ہے۔ اس کے قبضے سے چینی ساخت کا ایک پستول برآمد کیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ رشید نے محض دو دن قبل ہی یاور گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مسلح تصادم شروع ہونے کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر کے دو اضلاع کولگام اور اننت ناگ میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کی گئیں۔ انہوں نے بتایا ’خدمات کی معطلی بدستور جاری رکھی گئی ہے۔ یہ اقدام کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے‘۔

تاہم موبائیل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے باوجود مسلح تصادم کے مقام پر احتجاجیوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ان جھڑپوں میں تین عام شہری زخمی ہوئے جن میں سے دو پیلٹ جبکہ ایک گولی لگنے سے زخمی ہوئے ۔ دریں اثنا قاضی گنڈ مسلح تصادم میں ہلاک ہونے والے مقامی جنگجو یاور بشیر کو منگل کی صبح اپنے آبائی گاؤں ہبلش کولگام میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس موقع پر شرکائے جلوس جنازہ نے جنگجوؤں اور کشمیر کی آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ یاور بشیر کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ اس نے رواں برس کے فروری میں ایک پولیس اہلکار سے ہتھیار چھین کر لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یاور بشیر امرناتھ یاتریوں پر حملہ انجام دینے والے پاکستانی جنگجوؤں ابو اسماعیل، فرقان اور ابو معاویہ سے وابستہ تھا۔ لشکر طیبہ کے کشمیر چیف ابو اسماعیل کو رواں برس 14 ستمبر کو سری نگر کے مضافاتی علاقہ نوگام میں دو دیگر جنگجوؤں کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز