جموں و کشمیر : پلوامہ میں ڈی پی ایل پر فدائین حملہ ، 8 جوان شہید ، دو دہشت گردوں کو بھی مار گرایا گیا

Aug 26, 2017 03:09 PM IST | Updated on: Aug 26, 2017 09:11 PM IST

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہفتہ کے روز جنگجوؤں نے ڈسٹرکٹ پولیس لائنز (ڈی پی ایل) پر فدائین حملہ کیا جس میں ریاستی پولیس کے 3 اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 2 اہلکاروں سمیت 8 سیکورٹی فورس اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ڈی پی ایل کے اندر سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین قریب 14 گھنٹوں تک جاری رہنے والے مسلح تصادم میں 2 بھاری مسلح فدائین حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا۔ زخمی سیکورٹی فورس اہلکاروں کی تعداد 5 بتائی جارہی ہے جن میں ریاستی پولیس کے دو اور سی آر پی ایف کے 3اہلکار شامل ہیں۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ ڈی پی ایل کے اندر طرفین کے مابین گولہ باری کا تبادلہ بدستور جاری ہے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فدائین حملہ آوروں کی ابتدائی فائرنگ میں 8 سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے تین اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ابتدائی فائرنگ کے مہلوکین کی شناخت سی آر پی ایف کے جسونت سنگھ اور داناواڈا رویندرا بابن اور ریاستی پولیس کے امتیاز احمد شیخ کے بطور کی گئی۔

جنگجو تنظیم جیش محمد نے اس فدائین حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈی پی ایل میں مسلح تصادم کے دوران قصبہ پلوامہ میں آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسزکے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیاہے۔ انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کے طور پر ضلع پلوامہ میں موبائیل انٹرنیٹ سروس معطل کردی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کا اقدام سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہفتہ کی علی الصبح قریب چار بجے دو جنگجوؤں پر مشتمل ایک بھاری مسلح گروپ نے ڈسٹرکٹ پولیس لائنز پر حملہ کرکے اندر داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں نے اندر داخل ہونے کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی اور سیکورٹی فورسز کی طرف ہتھ گولے داغے۔ انہوں نے بتایا کہ فدائین حملہ آور ڈی پی ایل کے اندر داخل ہونے کے بعد ایک رہائشی کوارٹرمیں داخل ہوئے۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کی ابتدائی فائرنگ میں 8 سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے۔ انہوں نے بتایا ’زخمیوں کو پہلے ضلع اسپتال پلوامہ اور بعدازاں تشویشناک حالت میں سری نگر کے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ‘۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاستی پولیس کا ایک اور سی آر پی ایف کے دو اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ۔

جموں و کشمیر : پلوامہ میں ڈی پی ایل پر فدائین حملہ ، 8 جوان شہید ، دو دہشت گردوں کو بھی مار گرایا گیا

ہندوستانی فوج: فائل فوٹو

انہوں نے بتایا کہ فدائین حملہ آوروں نے رہائشی کوارٹر میں داخل ہونے کے بعد بھی فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا، تاہم مذکورہ عمارت میں موجود افراد کو بحفاظت باہر نکالا گیا۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کے چھپنے کی جگہ کا پتہ لگانے کے لئے ڈرون کیمروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کو فرار ہونے سے روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی کمک وہاں پہنچادی گئی تھی جنہوں نے ڈی پی ایل کو چاروں اطراف سے محاصرے میں لے لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی اقدام کے طور پر کسی بھی میڈیا اہلکار کو مسلح تصادم کے نذدیک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ مسلح تصادم کے دوران انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جنگجو تنظیم جیش محمد نے ڈی پی ایل پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ایک ترجمان نے یہاں مقامی میڈیا کو فون پر بتایا کہ تنظیم سے وابستہ جنگجو ؤں نے ڈی پی ایل پر حملہ انجام دیکر متعدد سیکورٹی فورس اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے وادی میں جنگجوؤں کے خلاف ’آپریشن آل آوٹ‘ شروع کرنے کے بعد یہ جنگجوؤں کی طرف سے کسی سیکورٹی فورس کیمپ پر پہلا فدائین حملہ ہے۔ تاہم سیکورٹی فورسز نے رواں برس جون میں شمالی کشمیر کے سمبل میں واقع فوجی کیمپ کے نذدیک چار جنگجوؤں کو ہلاک کرکے فدائین حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

وادی میں رواں ماہ کے دوران سیکورٹی فورسز نے مختلف جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران 23 جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔ تاہم ان جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران چھ سیکورٹی فورس اہلکار اور سات عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز