جنوبی کشمیر : ذاکر موسی گروپ سے وابستہ 3 دہشت گرد ہلاک ، پیلٹ فائرنگ میں ایک نوجوان کی بھی موت

Aug 09, 2017 07:25 PM IST | Updated on: Aug 09, 2017 07:37 PM IST

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے گلاب باغ ترال میں بدھ کو ہونے والے ایک مختصر مسلح تصادم میں تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ مارے گئے دہشت گردوں کا تعلق دہشت گرد کمانڈر ذاکر موسیٰ کے گروپ سے تھا۔ ذاکر موسیٰ کو حال ہی میں عالمی شدت پسند تنظیم ’القاعدہ‘ نے ’کشمیر لنک‘کا سربراہ منتخب کیا۔ گلاب باغ میں جنگجوؤں کی ہلاکت کے بعد ضلع پلوامہ کے متعدد علاقوں میں احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں جن میں ایک نوجوان ہلاک جبکہ متعدد دیگرزخمی ہوگئے۔

سیموہ ترال میں جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی احتجاجی مظاہرین پر شدید پیلٹ فائرنگ کے نتیجے میں 17 سالہ نوجوان محمد یونس شیخ جاں بحق ہوگیا۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی محمد یونس کو پہلے مقامی اسپتال اور بعدازاں سر ی نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ مقامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں اسپتال ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ مہلوک نوجوان کے سینے میں سینکڑوں پیلٹ پیوست ہوئے تھے۔

جنوبی کشمیر : ذاکر موسی گروپ سے وابستہ 3 دہشت گرد ہلاک ، پیلٹ فائرنگ میں ایک نوجوان کی بھی موت

file photo

ذرائع نے بتایا کہ ضلع پلوامہ میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کی تعیناتی عمل میں لانے کے علاوہ موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی گئی ہیں۔ انہوں نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت اشفاق احمد ساکنہ بٹہ گنڈ ترال، زاہد احمد بٹ ساکنہ نودل ترال اور اشرف ڈار ساکنہ ترچھ پلوامہ کے بطور ظاہر کی ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون منیر احمد خان نے مسلح تصادم کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ پلوامہ کے گلاب باغ ترال میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ نے مذکورہ علاقہ میں آج مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا۔

تاہم جب ایک مخصوص علاقہ کو محاصرے میں لیا جارہا تھا تو وہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا۔ مسٹر خان نے بتایا ’علاقہ میں چھپے بیٹھے سبھی تین جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ ہم نے مسلح تصادم کے مقام سے دو اے کے رائفلیں اور ایک پستول برآمد کیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’ذاکر موسیٰ نے حال ہی میں ایک تصویر جاری کی۔ اس مسلح تصادم میں مارے گئے تینوں جنگجو ؤں کو اس تصویر میں دیکھا گیا تھا‘۔

ترال سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گلاب باغ میں جنگجوؤں کے سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسنے کے ساتھ ہی نذدیکی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم جب لوگوں نے مسلح تصادم کے مقام کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تو سیکورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ سیکورٹی فورسز کی کاروائی پر احتجاجی لوگ مشتعل ہوئے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے لگے۔اس کے بعد طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا، جو گھنٹوں تک جاری رہا۔ قصبہ پلوامہ اور پانپور میں بھی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق قصبہ پانپور میں سیکورٹی فورسز نے مشتعل احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی۔ ذرائع نے بتایا کہ احتجاجیوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے علاوہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گلاب باغ میں مسلح تصادم شروع ہونے کے ساتھ ہی پورے ضلع پلوامہ میں موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات منقطع کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام سوشل میڈیا پر افواہ بازی کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ اس مسلح تصادم کے ساتھ گذشتہ نو دنوں کے دوران ہونے والے آٹھ جنگجو مخالف آپریشنوں میں ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد بڑھ کر 12 ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ آٹھ دنوں کے دوران جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران 4 عام شہری اور ایک میجر سمیت دو فوجی اہلکار بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز