کشمیر پارلیمانی ضمنی انتخابات: رائے دہندگان کو لبھانے کیلئے اردو زبان کا استعمال

Apr 04, 2017 05:41 PM IST | Updated on: Apr 04, 2017 08:29 PM IST

سری نگر۔  وادئ کشمیر کی دو پارلیمانی نشستوں سری نگر اور اننت ناگ کے لئے بالترتیب 9 اور 12 اپریل کو منعقد ہونے والے پارلیمانی ضمنی انتخابات کے سلسلے میں سیاسی جماعتیں جہاں اپنے امیدواروں کے حق میں کھل کر مہم چلانے سے قاصر ہیں۔  وہیں ان سیاسی جماعتوں نے اب اخباری اشتہارات کے ذریعے رائے دہندگان کو لبھانا شروع کردیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اشتہارات کے ذریعے رائے دہندگان کو لبھانے کے لئے صرف اردو زبان استعمال کی جارہی ہے۔ یو این آئی نے گذشتہ پانچ دنوں کے دوران وادی سے شائع ہونے والے قریب ایک درجن اخبارات میں چھپنے والے انتخابی اشتہارات کے متن کا تجزیہ کیا اور اس تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ صد فیصد اشتہارات میں اردو کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ انگریزی زبان کے اخبارات میں چھپنے والے انتخابی اشتہارات میں بھی اردو کا ہی استعمال کیا گیا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ’چونکہ وادی میں کم پڑھے لکھے لوگ بھی اردو بہ آسانی پڑھ لیتے ہیں ، یہی ایک وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اور الیکشن لڑنے والے امیدوار رائے دہندگان تک اپنی باتیں پہنچانے کے لئے اردو زبان کا استعمال کرتے ہیں‘۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ریاست کی برسراقتدار جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) جس کے پارٹی پروگراموں میں اردو تحریروں والے بینرس شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، کے پارٹی قائدین نے بھی رائے دہندگان کو اپنے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے قائل کرنے کے لئے اردو تحریروں والے اشتہارات چھپوانا شروع کردیے ہیں۔

اخباری اشتہارت کے متن کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ جہاں برسراقتدار جماعت پی ڈی پی نے بغیر کسی وعدے کے جنوبی کشمیر کے عوام سے پارٹی امیدوار مفتی تصدق حسین کے حق میں ووٹ مانگے ہیں، وہیں کانگریس نے وادی میں انتہائی مہلک ثابت ہونے والی پیلٹ گن کے استعمال کو رکوانے کے لئے پارٹی امیدوار برائے جنوبی کشمیر غلام احمد میر کے حق میں ووٹ مانگے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اپنے اشتہار میں لوگوں سے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ جیت جانے کے بعد مسٹر میر پارلیمنٹ میں کشمیری عوام کی آواز بلند کریں گے اور آر ایس ایس کی پالیسیوں سے کشمیر کو بچائیں گے۔ دوسری جانب مختلف اضلاع کے چناؤ افسروں نے رائے دہندگان کو ووٹ ڈالنے کے لئے قائل کرنے کے لئے بڑے پیمانے کی اشتہاری مہم شروع کردی ہے۔ یہ اشتہاری مہم ظاہری طور پر علیحدگی پسندوں کی طرف سے دی گئی الیکشن بائیکاٹ اپیل کو بے اثر بنانے کے لئے شروع کی گئی ہے۔ اس اشتہاری مہم کا بھی دلچسپ پہلو بڑے پیمانے پر اردو زبان کا استعمال ہے۔ مختلف اضلاع بالخصوص سری نگر میں درجنوں مقامات پر چناؤ افسروں کی طرف سے لگائی گئی ہورڈنگز نظر آرہی ہیں جن میں لوگوں کو ووٹوں کی اہمیت بتاتے ہوئے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ایکسچینج روڑ کراسنگ پر لگائی گئی ہورڈنگ کے متن کو پڑھنے میں مصروف ارشاد احمد نامی ایک راہگیر نے بتایا کہ انہیں اپنی زندگی میں پہلی بار اس طرح کی ہورڈنگز کا مشاہدہ ہوا۔

کشمیر پارلیمانی ضمنی انتخابات: رائے دہندگان کو لبھانے کیلئے اردو زبان کا استعمال

انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے وقت سیاسی جماعتوں کی ہورڈنگز اہم چوراہوں پر نظر آتی تھیں جن کے ذریعے وہ رائے دہندگان کو لبھانے کی کوشش کرتے تھے۔ اہم عوامی مقامات اور چوراہوں پر ہورڈنگز لگانے کے علاوہ چناؤ افسروں نے اخبارات میں بھی اشتہارات چھپوانا شروع کردیے ہیں جن میں لوگوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی تاکید کی جارہی ہے۔ دریں اثنا ضمنی انتخابات کی تاریخیں نزدیک آنے کے باوجود وادی میں انتخابی مہم کا روایتی جوش و خروش کہیں بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ سیکورٹی وجوہات اور مبینہ طور پر آزادی حامی نوجوانوں کے غیض وغضب سے بچنے کے لئے سیاسی جماعتوں کی رائے دہندگان کو لبھانے کی سرگرمیاں سرکاری ڈاک بنگلوں، کیمونٹی ہالوں اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔ تاہم اپوزیشن نیشنل کانفرنس وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع میں کچھ انتخابی جلسوں کا انعقاد کھلے میدانوں میں منعقد کرنے میں کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ پی ڈی پی کو سخت ٹکر دینے کے لئے نیشنل کانفرنس اور کانگریس دونوں نشستوں کے انتخابات مشترکہ طور پر لڑرہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز