میرٹھ میں ہندو یوا واہنی کے نام سے لگے پوسٹر ،" اترپردیش میں رہنا ہے تو یوگی یوگی کہنا ہے "۔

Apr 16, 2017 01:54 PM IST | Updated on: Apr 16, 2017 01:54 PM IST

میڑتھ : ہندو یوا واہنی کے ضلع صدر نیرج شرما پاچلي کے نام سے میرٹھ میں لگائے گئے متنازعہ پوسٹر اترپردیش میں رہنا ہے تو یوگی یوگی کہنا ہے کو لے کر ایک نیا تنازع پیدا ہوگیا ہے اور لوگ اس کی شدید تنقید کررہے ہیں ۔ ادھر ہندو یوا واہنی تنظیم نے بھی اس سے پلہ جھاڑ نے کی کوشش کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹر اس کو بدنام کرنے کیلئے لگائے گئے ہیں۔ دوسری طرف ضلع انتظامیہ نے ان پوسٹروں کو ہٹا دیا ہے۔

ایس ایس پی جے رویندر گوڑ کے مطابق ضلع میں کچھ جگہوں پر ہندو یوا واہنی کے نام سے بینر لگے ہونے کی انہیں اطلاع ملی تھی۔ ان بینروں پر لکھا ہے کہ ریاست میں رہنا ہے تو يوگي یوگی کہنا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق معاملہ نوٹس میں آنے کے بعد انہوں نے پورے معاملہ کی رپورٹ ایل آئی یو سے طلب کی ہے۔ جانچ رپورٹ ملنے کے بعد ہی ملزم لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے گا۔

میرٹھ میں ہندو یوا واہنی کے نام سے لگے پوسٹر ،

ادھر ہندو یوا واہنی کے ڈویژن انچارج ناگیندر تومر کا کہنا ہے ان پوسٹروں کو تنظیم کی طرف سے نہیں لگوایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایس ایس پی سے قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ خیال رہے کہ میرٹھ میں جگہ جگہ لگائے گئے پوسٹر میں ہندو یوا واہنی کے میرٹھ ضلع صدر نیرج شرما پاچلي کی تصویر بھی دکھائی دے رہی ہے۔ پوسٹر میں لکھا ہے کہ ریاست میں رہنا ہے تو یوگی یوگی کہنا ہے۔ تنظیم کے مطابق کچھ لوگوں نے سازش کے تحت یہ پوسٹر لگائے ہیں، جس سے تنظیم کو بدنام کیا جا سکے۔

ناگیندر تومر کے مطابق انہوں نے ہی بی ایس پی سے آئے ہوئے نیرج شرما کو ضلع صدر کی ذمہ داری سونپی تھی۔ تاہم حکام پر دباؤ بنانے اور دیگر شکایت ملنے کے بعد اس کو عہدہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز