سپریم کورٹ میں تین طلاق پر پہلے دن کی سماعت میں اٹھیں یہ باتیں ، آج دوسرا دن ، ان باتوں پر ہورہی سماعت

May 12, 2017 10:19 AM IST | Updated on: May 12, 2017 01:21 PM IST

نئی دہلی : سپریم میں تین طلاق کی آئینی قانونی حیثیت کو چیلنج دینے والی درخواستوں پر سماعت کا آج دوسرا دن ہے ۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس جے ایس كھیہر کی صدارت والی پانچ ججوں کی بنچ کر رہی ہے ۔ جمعرات سے شروع ہوئی اس بحث میں کچھ چیزیں صاف نکل کر سامنے آئیں اور سپریم کورٹ نے بحث کے مدعوں کو واضح کردیا  ۔ کل کی سماعت کے دوران کیا کیا ہوا ، اس پر ایک نظرڈالتے ہیں ۔

سماعت سے پہلے تین طلاق ، نکاح حلالہ اور تعدد ازدواج پر بحث ہونے کی بات کہی جا رہی ہے لیکن سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ تعدد ازدواج پر سماعت نہیں کی جائے گی اور ضروری ہونے پر نکاح حلالہ پر بات ہوگی ۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ وہ پہلے اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا یہ اسلام کے بنیادی عناصر میں ہے ۔ اگر یہ مذہبی معاملہ ہے ، تو اس میں عدالت مداخلت نہیں کرے گی ۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا تین طلاق تہذیب سے متعلق ہے اور یہ بنیادی حق کے طور پر لاگو کیا جا سکتا ہے ۔

سپریم کورٹ میں تین طلاق پر پہلے دن کی سماعت میں اٹھیں یہ باتیں ، آج دوسرا دن ، ان باتوں پر ہورہی سماعت

وہیں مرکز نے صاف کر دیا کہ اس طرح کا طلاق صنفی انصاف کے خلاف ہے اور اس روایت کو چیلنج کرنے والوں نے کہا کہ یہ بنیادی مذہبی اصول کا حصہ نہیں ہے۔

دن بھر جاری رہی سماعت میں ایڈیشنل ساليسيٹر جنرل تشار مہتہ اور پنکی آنند نے بینچ سے کہا کہ مرکز کسی کا حق نہیں لے رہا ہے اور وہ صرف صنفی انصاف ، خواتین کے لئے مساوات اور خواتین کے وقار کے مسائل پر عدالت کی مدد کر رہا ہے ۔

بنچ نے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر مختلف اسلامی ممالک میں رائج قوانین کا جائزہ بھی لینا چاہے گی ۔ ایک اور درخواست گزار کی جانب سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ اگر عدالتی نظام سے الگ طلاق دیئے جا رہے ہیں ، تو ایسی صورت میں اس کے نتائج سے نمٹنے کے لیے عدالتی نگرانی ہونی چاہئے ۔

کورٹ کی مدد کر رہے سینئر وکیل سلمان خورشید نے تین طلاق کو بیکار کا مسئلہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ شوہر اور بیوی کے درمیان معاہدے کی کوششوں کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جاتا ہے۔ بنچ نے جب سوال کیا کہ کیا ایک مرتبہ میں تین طلاق دیئے جانے کے بعد دوبارہ صلح ہوسکتی ہے تو خورشید نے اس کا منفی جواب دیا ۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے سینئر وکیل اور سابق وزیر کپل سبل نے خورشید سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی سمجھدار مسلمان اچانک ایک دن صبح اٹھ کر طلال طلاق طلاق نہیں کہے گا ۔ بنچ نے وقفہ کے بعد بھی دلیلیں سننی جاری رکھی ۔

ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ اگر تین طلاق کو ختم کر دیا جائے تو مردوں کے لئے طلاق لینے کے لئے کیا اختیارات ہوں گے ۔ کون سے نئے نظام اس کی جگہ لیں گے ۔ اس کے جواب میں ایک سینئر وکیل نے کہا کہ اس کے لئے پارلیمنٹ نیا قانون بنا سکتی ہے ۔ یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ نیا قانون بننے تک مسلم مرد آرٹیکل 1939 کے تحت طلاق لے سکتے ہیں ، جو فی الحال خواتین کو طلاق کا حق دیتا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ تین طلاق پر 11 مئی سے 15 مئی تک لگاتار سماعت کی جائے گی ۔ تین دن ان کے لئے جو ٹرپل طلاق کو چیلنج دے رہے ہیں اور تین دن ان کے لئے جو اس کا دفاع کر رہے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز