ہندوستان میں عربی مخطوطات کی فہرست سازی ، تحقیق اور اشاعت وقت کی اہم ترین ضرورت : عبد اللہ بن صالح الوشمی

Apr 19, 2017 11:11 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 11:11 PM IST

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی آئی ٹی ہال میں شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہ عبداللہ بن عبد العزیز بین الاقوامی مرکز برائے فروغ عربی زبان سعودی عربیہ کے تعاون سے ’’علمی تحقیق کے اصول‘‘ اور ’’عربی زبان کے لسانی سرمایہ کی تدوین و تحقیق‘‘ کے موضوع پردو تربیتی سیشن منعقد کئے گئے جس کی صدارت سابق صدر شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر شفیق احمد خان ، اور پروفیسر زبیر احمد فاروقی سابق صدر شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی۔ کنگ خالد یونیورسٹی کے صدر شعبۂ عربی ڈاکٹر عبد الرحمن المحسنی اورکنگ سعود یونیورسٹی کے صدر شعبۂ عربی ڈاکٹر سعید الملانے ان تربیتی سیشن میں خطاب کیا ،پروگرام کی نظامت صدر شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر محمد ایوب ندوی اور شعبۂ عربی کے استاذ ڈاکٹر نسیم اختر ندوی نے کی

ڈاکٹر عبد الرحمن المحسنی نے علمی تحقیق کے اصول و مبادیٔ پر روشنی ڈالی ، انھوں نے کہا کی علمی تحقیق کا پہلا اور سب سے بنیادی مرحلہ موضوع کا انتخاب ہے ، موضوع کے انتخاب میں طالب علم کو کافی حساس ہونا چاہئے تاکہ وہ اس موضوع کا انتخاب کرسکے جو اس کی دلچسپی کا موضوع ہو تاکہ ریسرچ اسکالر اس موضوع کے ساتھ انصاف کر سکے۔ ریسرچ اسکالر کو انتہائی امانت دار ہونا چاہئے، بحث کے لغوی معنی تو زمین کھودنے کے آتے ہیں اس لئے ریسرچ اسکالر سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ معلومات کو پوری جانفشانی سے حاصل کرے اور ہر اس گوشے کو دیکھے جہاں معلومات کے حصو ل کا امکان ہو۔

ہندوستان میں عربی مخطوطات کی فہرست سازی ، تحقیق اور اشاعت وقت کی اہم ترین ضرورت : عبد اللہ بن صالح الوشمی

پروفیسر شفیق احمد خان ندوی نے اپنے صدارتی خطاب میں اس تربیتی کورس کے انعقاد پرشعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور عبد اللہ بن عبد العزیز بین الاقوامی مرکز برائے فروغ عربی زبان کو مبارک باد دی اور تحقیق میں استعمال ہونے والے مصادر و مراجع کو بیان کرنے کے اصول و آداب بتائے ۔

کنگ سعود یونیورسٹی کے صدر شعبۂ عربی ڈاکٹر سعید الملا نے اپنے خطاب میں عربی ورثہ کی اہمیت اور اس کی تحقیق و تدوین کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے مخطوطات کی تحقیق کے اصول و آداب بیان کئے، ان کا خطاب انتہائی دلچسپ تھا ۔خطاب کے بعد مباحثہ کا وقفہ ہوا جس میں مختلف یونیورسٹیز کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ اس مباحثہ میں سعودی اساتذہ نے بھی حصہ لیا اور رعلمی ریسرچ کے طریقۂ کار اور مخطوطات کی تحقیق کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔

شاہ عبداللہ بن عبد العزیز بین الاقوامی مرکز برائے فروغ عربی زبان کے جنرل سکریٹری عبد اللہ بن صالح الوشمی نے کہا کہ ہندوستان کی مختلف لائبریریوں مدارس اور مساجد میںعربی زبان و ادب کے ایسے نادر اور نایاب مخطوطات ہیں جن کی فہرست سازی، تحقیق و تدوین ، اور اشاعت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، انھوں نے کہا ہم ہندوستان کے عربی زبان و ادب کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز سے توقع کرتے ہیں کہ وہ عربی زبان و ادب کی یہ عظیم خدمت انجام دیں گے تاکہ مخطوطات کا یہ عظیم سرمایہ ضائع ہونے سے بچ جائے اور دنیا علم و حکمت کے اس مخفی خزانے سے روشناس ہو ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز