مولانا ابوالکلام آزاد اور آچاریہ کرپلانی کو قوم کا خراج عقیدت

نئی دہلی۔ عظیم مجاہد آزادی اور ملک کے اولین وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد اور نامور گاندھی وادی لیڈر آچاریہ جے بی کرپلانی کو احسان مند قوم نے آج ان کی جینتی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کیا۔

Nov 11, 2017 03:54 PM IST | Updated on: Nov 11, 2017 03:54 PM IST

نئی دہلی۔ عظیم مجاہد آزادی اور ملک کے اولین وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد اور نامور گاندھی وادی لیڈر آچاریہ جے بی کرپلانی کو احسان مند قوم نے آج ان کی جینتی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں کہا کہ " ہندوستانی تاریخ کی دو قدآور شخصیات -مولانا ابوالکلام آزاد اور آچاریہ جے بی کرپلانی کو ان کی جینتی پر خراج عقیدت ۔ ملک کی تحریک آزادی  میں اور اس کے بعد ملک کی تعمیر میں ان کا کردار بہت اہم تھا"۔ پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں منعقدہ پروگرام میں راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد، رہائش اور شہری ترقیات کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ہردیپ سنگھ پوری، سابق نائب وزیر اعظم اور لوک سبھا کی ضابطہ کمیٹی کے چیئرمین لال کرشن اڈوانی اور دیگر متعدد اراکین پارلیمنٹ نے مولانا ابوالکلام آزاد کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔

اس پروگرام میں حصہ لینے والے شرکاء کو لوک سبھا سیکرٹریٹ کی طرف سے ہندی اور انگریزی میں شائع مولانا ابوالکلام آزاد کی سوانح حیات ہدیہ کی گئی۔ اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد نے 16 دسمبر 1959 کو پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں مولانا ابوالکلام آزاد کی تصویر کی نقاب کشائی کی تھی۔ آچاریہ جیوت رام بھگوان داس کرپلانی مہاتما گاندھی کے بڑے پیروکاروں میں سے ایک تھے۔ ان کی پیدائش 11 نومبر 1888 کو سندھ کے حیدرآباد میں ہوئی تھی، جو اب پاکستان میں ہے اور 19 مارچ، 1982 کو احمد آباد میں ان کا انتقال ہوا تھا۔ 1920 کے تحریک عدم موالات اور 1977 کی ایمرجنسی کے دوران سرگرم رہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد اور آچاریہ کرپلانی کو قوم کا خراج عقیدت

مولانا ابوالکلام آزاد کو 20 ویں صدی کے بہترین اردو قلمکاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہ شاعر، مصنف، صحافی اور مجاہد آزادی تھے۔

مولانا ابوالکلام آزاد کو 20 ویں صدی کے بہترین اردو قلمکاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہ شاعر، مصنف، صحافی اور مجاہد آزادی تھے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی کے اصولوں کے کٹر حامی مولانا آزاد کا سیاسی میدان میں اہم کردار رہا ہے۔ اسلامی تعلیم کے علاوہ، انہوں نے فلسفہ، تاریخ اور دیگر اساتذہ سے ریاضی کی تعلیم بھی حاصل کی۔ مولانا آزاد کو اردو، فارسی، ہندی، عربی اور انگریزی زبانوں میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے ہندو -مسلم اتحاد کے لئے کام کیا اور علیحدہ مسلم ملک (پاکستان) کے نظریہ کی مخالفت کی تھی۔ تحریک خلافت میں ان کا کردار اہم تھا۔ 1923 میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سب سے کم عمر رکن بنے ۔ وہ 1940 اور 1945 کے درمیان کانگریس کے صدر تھے۔ آزادی کے بعد وہ 1952 میں اتر پردیش کے ضلع رامپور سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے اور ملک کے اولین وزیر تعلیم بن گئے۔ 22 فروری 1958 کو دہلی میں ان کی وفات ہوئي۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز