تین طلاق کے خلاف بل : اپوزیشن کے خدشات مسترد ، لوک سبھا میں بل پاس ، پڑھیں کس لیڈر نے کیا کہا ؟

Dec 28, 2017 11:37 PM IST | Updated on: Dec 28, 2017 11:37 PM IST

نئی دہلی: اپوزیشن نے آج تین طلاق کے خلاف حکومت کی طرف سے لائے گئے بل کا استقبال کرنے کے باوجود اس میں کچھ کوتاہیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے تفصیلی مشاورت کے لئے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم اس مطالبہ کو رد کردیا گیا ہے اور لوک سبھا نے کچھ اپوزیشن پارٹیوں کے واک آؤٹ کے درمیان صوتی ووٹ سے منظور کرلیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر وزیر قانون روی شنکر پرساد کے ذریعہ پیش کئے گئے اس بل میں طلاق ثلاثہ (طلاق بدعت) کو سنگین اور غیر ضمانتی جرم کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ بل میں بیک وقت تین طلاق دینے پر شوہر کو تین سال تک قید کی سزا اور جرمانے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ بیوی اور چھوٹے بچوں کے لئے نان و نفقہ دینے کا بندوبست کیا گيا ہے اور متاثرہ خاتون کو چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے کا حق بھی دیا گیا ہے۔

تین طلاق کے خلاف بل : اپوزیشن کے خدشات مسترد ، لوک سبھا میں بل پاس ، پڑھیں کس لیڈر نے کیا کہا ؟

photo : lstv

بل کو جبرا نہ تھوپا جائے : ملک ارجن کھڑگے

بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ ان کی پارٹی بل کی حمایت کرتی ہے لیکن اس میں کچھ کمیاں ہے جنہیں دور کرنے ضرورت ہے ۔بل پر تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے لیکن یہ نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے بل کو جبراً تھوپے نہ جانے کا مشورہ دیتے ہوئے اسے پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کے پاس غور و خوض کے لئے بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے فرقہ وارانہ تانے بانے کو مضبوط بنائے رکھنے کے لئے بل پر تمام مشورے اور تجاویز شامل کرنا ضروری ہے۔مسٹر کھڑگے نے کہا کہ اگر حکومت اسے منظور کرنے میں بہت جلدی میں ہے تو اسے صرف 15-20 دنوں تک کمیٹی کے پاس بھیجیں۔

شوہر بیوی کے درمیان صلح کا کوئی متبادل بچا نہیں رہ جائے گا: سشمیتا دیو

کانگریس کی ہی سشمیتا دیو نے بل میں تین طلاق کو غیر ضمانتی اور سنگین جرم کے زمرے میں ڈالے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شوہر بیوی کے درمیان صلح کا کوئی متبادل بچا نہیں رہ جائے گا۔ اس کے علاوہ، طلاق شدہ خاتون کے لئے طلاق کی گزارہ بھتہ حاصل کرنا بھی مشکل ہو گا۔ ایسی صورتحال میں حکومت اس طرح کے خواتین کے لئے فنڈ کا انتظام کرے گی؟ کیا اس نے اس کے لئے ایک علیحدہ فنڈ بنانے کا انتظام کیا ہے۔ انهوں نے کہا کہ اس بل کی آڑ میں یہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کا کریڈٹ لینا چاہ رہی ہے ، ایسے میں اسے یہ بتانا چاہئے کہ وہ خواتین ریزرویشن بل کب منظور کرائے گی۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود یہ سماجی برائی بدستور جاری ، اس لئے لایا گیا بل : میناکشی لیکھی ، بی جے پی لیڈر

بھارتیہ جنتا پارٹی کی میناکشی لیکھی نے بل کو جلد بازی میں لائے جانے کے اپوزیشن کے اعتراض پر کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے تین طلاق کو غیر آئینی بتائے جانے کے باوجود خواتین کے خلاف یہ سماجی برائی جاری بدستور جاری ہے۔ جس طرح مسلم خواتین سماجی اور اقتصادی طور پر نظرانداز ہیں ان سے باہر نکلنے میں انہیں تاخیر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ جس تیزی سے تین طلاق کہہ کر خواتین کی زندگی اجاڑی جارہی ہے اسی تیزی سے اس برے رواج کو ختم کرنے کے لئے قانون لایا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ خواہ ہندو مذہب ہو یا عیسائی یا مسلم مذہب ہو، ہر معاشرے میں خواتین کا استحصال کیا جاتا ہے ۔ اس صورت میں، یہ فساد ختم ہو جانا چاہئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ یہ مسلم معاشرہ میں مداخلت ہے۔ ہندو معاشرے میں رایج برے رواج کے خلاف بھی قانون لایا گیا تھا۔ انہوں نے کانگریس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلم معاشرے کی حامی بننے کا دکھاوا کرنے والی اس پارٹی کے دور حکومت میں ہی شاہ بانو کیس میں حکومت نے منہ بھرائی کی پالیسی اپناتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو الٹنے کا کام کیا تھا جس کے خلاف اس وقت کے وزیر قانون نے استعفی دے دیا۔

خیال سے متفق ، لیکن طریقوں سے اتفاق نہیں:تتھاگت ستپتھي

بیجو جنتا دل کے تتھاگت ستپتھي نے کہا کہ وہ اس بل کے خیال سے متفق ہے لیکن اس کے طور طریقوں سے اتفاق نہیں ہے۔ انہوں نے اسے جرم قرار دینے کے سلسلے میں اعتراض کیا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز