تین طلاق پر بننے والا مرکزی حکومت کا قانون انہیں منظور نہیں

فوری تین طلاق پر قانون بنانے کے لئے مرکزی حکومت آج پارلیمنٹ میں بل لا رہی ہے۔ بل کا مسودہ پہلے ہی تیار کر لیا گیا ہے۔

Dec 28, 2017 12:57 PM IST | Updated on: Dec 28, 2017 12:57 PM IST

نئی دہلی۔ فوری تین طلاق پر قانون بنانے کے لئے مرکزی حکومت آج پارلیمنٹ میں بل لا رہی ہے۔ بل کا مسودہ پہلے ہی تیار کر لیا گیا ہے۔ تین سینئر وزراء کی کمیٹی نے یہ مسودہ تیار کیا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر مسلمانوں کے تین بڑے ادارے اور مسلم پرسنل لا بورڈ اس بل کو سرے سے مسترد کر رہے ہیں۔

وہ تین طلاق پر بننے والے قانون کو بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یک طرفہ بن رہے قانون کو وہ حکومت کی آمریت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام نے ایسے ہی کچھ اداروں اور بورڈ سے بات کر تین طلاق پر پیش کئے جانے والے بل کے بارے میں ان کی رائیں جاننے کی کوشش کی۔

تین طلاق پر بننے والا مرکزی حکومت کا قانون انہیں منظور نہیں

فائل فوٹو

Loading...

تین طلاق کے معاملہ میں سرکار تانا شاہ ہو رہی ہے۔ مسلم اداروں سے بات چیت کئے بغیر اکیلے ہی بل کا مسودہ تیار کر لیا گیا۔ ہم ایسے بل کو قطعی نہیں مانیں گے۔ جس تین طلاق کو سپریم کورٹ نے نہیں مانا ہے ۔ کورٹ نے تین طلاق کو جرم نہیں کہا ہے تو پھر حکومت کس جرم کے لئے بل لا رہی ہے۔ ہم بل دیکھنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائیں گے‘‘۔

کمال فاروقی، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

ہمیں تین طلاق پر بننے والا قانون کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہے۔ یہ کس طرح کا مذاق ہو رہا ہے کہ جس کے لئے آپ قانون بنانے جا رہے ہیں اسی سے بات نہیں کریں گے۔ علما اور پرسنل لا بورڈ کو آپ نے کنارے کر دیا۔ ہم تین طلاق پر اسی قانون کو مانیں گے جو شریعت اور قرآن کی روشنی میں بنے گا۔ ہم یہ بات لا کمیشن اور سپریم کورٹ کے سامنے بھی کہہ چکے ہیں‘‘۔

شائستہ عنبر، آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ

ہمیں تین طلاق  پر بننے والے قانون سے کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن اعتراض اس بات سے ہے کہ آپ مسلمانوں کے لئے قانون بنا رہے ہیں اور انہیں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو آپ حاشیہ پر ڈال رہے ہیں۔ پرسنل لا بورڈ سے بھی حکومت نے بات نہیں کی ہے۔ یہ ملک کو بانٹنے والی باتیں ہیں‘‘۔

مفتی حسن منصور، دارالعلوم، ندوتہ العلما، لکھنؤ

ناصر حسین کی رپورٹ

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز