تین طلاق سے متعلق بل لوک سبھا میں پاس ، ترمیمات خارج ، تین سال کی سزا اور جرمانہ کا بندوبست

نئی دہلی۔ مرکزی حکومت نے آج لوک سبھا میں تین طلاق کو جرم قرار دینے والے بل کو پیش کر دیا۔

Dec 28, 2017 01:20 PM IST | Updated on: Dec 28, 2017 11:39 PM IST

نئی دہلی: شادی شدہ مسلم خواتین کو تین طلاق کی غلط سماجی رسم سے نجات دلانے کے لئے لوک سبھا نے آج سرخیوں میں چھائے رہنےوالے مسلم خواتین ( مابعد شادی حقوق کا تحفظ) بل 2017 کو کچھ اپوزیشن پارٹیوں کے واک آؤٹ کے درمیان صوتی ووٹ سے منظور کرلیا۔ اس سے قبل ایوان نے اپوزیشن ارکان کی جانب سے لائے گئے مختلف ترامیم کو ووٹنگ کے ذریعہ یا صوتی ووٹ سے نامنظور کر دیا۔ بل منظور ہونے سے پہلے بیجو جنتا دل اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ارکان نے مخالفت درج کراتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر وزیر قانون روی شنکر پرساد کے ذریعہ پیش کئے گئے اس بل میں طلاق ثلاثہ (طلاق بدعت) کو سنگین اور غیر ضمانتی جرم کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ بل میں بیک وقت تین طلاق دینے پر شوہر کو تین سال تک قید کی سزا اور جرمانے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ بیوی اور چھوٹے بچوں کے لئے نان و نفقہ دینے کا بندوبست کیا گيا ہے اور متاثرہ خاتون کو چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے کا حق بھی دیا گیا ہے۔ بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے اور اسے پیش کرتے ہوئے مسٹر روی شنکر پرساد نے کہا کہ مودی حکومت یہ بل کسی سیاست کے نظریئے سے نہیں، بلکہ انسانیت کے نظریہ سے لے کر آئی ہے۔ ایسی متاثرہ مطلقہ خواتین کے ساتھ کھڑا ہونا اگر جرم ہے تو ان کی حکومت یہ جرم بار بار کرنے کو تیار ہے۔

تین طلاق سے متعلق بل لوک سبھا میں پاس ، ترمیمات خارج ، تین سال کی سزا اور جرمانہ کا بندوبست

انہوں نے کہا کہ یہ بل مسلم خواتین کے وقار کو یقینی بنانے اور انہیں انصاف دلانے کے لئے ہے اور کسی بھی طرح سے یہ اسلامی شریعت میں مداخلت نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ تین طلاق کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے، لیکن اس کے بعد بھی ایسے تقریبا سو معاملے سامنے آ چکے ہیں، ایسے میں قانون بنانا ضروری ہے۔ اراکین کی اس دلیل پر کہ جب سپریم کورٹ نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے تو قانون لانے کی کیا ضرورت ہے، مسٹر پرساد نے کہا کہ متاثرہ خواتین کو عدالت کے اس فیصلے کو گھر میں رکھنے سے ہی انصاف نہیں مل جائے گا، بلکہ انہیں قانون کے ذریعے ہی انصاف مل سکے گا۔ بل میں جرمانہ کی رقم طے نہیں کئے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ تعزیرات ہند میں ایسی کئی دفعات ہیں جن میں جرمانے کی رقم کا ذکر نہیں ہے اور اس کا تعین عدالت کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے۔ اس معاملے میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔

وزیر قانون نے بل کے مسودہ پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ اراکین کو خوش کرنے کے لئے بل کو ان کے من پسند نہیں لکھا جا سکتا۔ اس بل کے ذریعے مسلم خواتین کو اپنے حق میں کرنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کسی بھی کمیونٹی کو ووٹ کے ترازو میں نہیں تولتي ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی مسلم ملکوں میں تین طلاق کی رسم کو روکنے کا پختہ قانونی نظام ہے، ایسے میں ہندوستان جیسا جمہوری ملک اس میں پیچھے نہیں رہ سکتا۔ کچھ لوگ اسے مسلم سماج کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی بتا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پاک بھی تین طلاق کی اجازت نہیں دیتا، ایسے میں یہ مذہب سے نہیں بلکہ سماجی برائیوں سے جکڑی مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک قدم ہے۔

Loading...

کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری اور سشمیتا دیو، ریو ليوشنري سوشلسٹ پارٹی کے این کے پریم چندرن، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے اے سمپت اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمين کے اسد الدین اویسی کی ترامیم کو ایوان نے ووٹنگ کے ذریعہ یا صوتی ووٹ سے مسترد کر دیا۔ اس سے پہلے بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن اراکین نے بل کا خیر مقدم کیا لیکن اس سلسلے میں حکومت کی منشا پر سوال اٹھایا اور تین طلاق كو جرم کے زمرے میں لانے کی دفعہ کو ہٹانے اور اسے وسیع مشاورت کے لئے پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔

اراکین نے کہا کہ اس بل میں کچھ خامیاں ہیں جنہیں دور کیا جانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد بازی میں منظور کرانے کی بجائے اسے مستقل کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ کچھ اراکین نے طلاق جیسے غیر فوجداری معاملے کو جرم کے زمرے میں رکھے جانے کی تجویز کی سخت مخالفت کی۔ اس ضمن میں حکومت کی نیت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت کے بہانے وہ یکساں سول کوڈ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز