Live Results Assembly Elections 2018

تین طلاق سے متعلق بل پارلیمنٹ میں آج ہوگا پیش ، مسلم پرسنل لا وومین بورڈ نے کہا : قرآن اور آئین کی روح کے خلاف قانون منظور نہیں

مرکزی حکومت آج لوک سبھا میں ایک بل پیش کرے گی جس کا مقصد تین طلاق ایک ساتھ دینے کے عمل کو سنگین تعزیراتی جرم کے دائرے میں لانا ہے اور سپریم کورٹ کی طرف سے طلاق دینے کے غیر قانونی قرار دیئے جانے والے طریقے پر عمل کے خلاف چارہ جوئی کاطریقہ وضع کرنا ہے

Dec 27, 2017 11:34 PM IST | Updated on: Dec 28, 2017 10:56 AM IST

نئی دہلی: مرکزی حکومت آج لوک سبھا میں ایک بل پیش کرے گی جس کا مقصد تین طلاق ایک ساتھ دینے کے عمل کو سنگین تعزیراتی جرم کے دائرے میں لانا ہے اور سپریم کورٹ کی طرف سے طلاق دینے کے غیر قانونی قرار دیئے جانے والے طریقے پر عمل کے خلاف چارہ جوئی کاطریقہ وضع کرنا ہے۔یہ بل ایک بین وزارتی گروپ نے تیار کیا ہے ۔ اس گروپ کی قیادت وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کر رہے تھے ۔

بل میں بہر صورت طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس طرح طلاق دینے والے خاوند کو تین سال جیل کی سزا دینے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ طلاق ثلاثہ زبانی ، تحریری ، بذریعہ ای میل ، ایس ایم ایس ، واٹس اپ وغیرہ کے ذریعہ دی جاتی ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بہر حال اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک خط میں اسے پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ بورڈ کے صدر مولانا سید رابع حسنی ندوی نے اس بل کو شریعت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی آئین میں حاصل ضمانتوں کے خلاف قرار دیا ہے۔

ادھر آل انڈیا وومین پرسنل لا بورڈ کی سربراہ شائستہ عنبر نے کہا ہے کہ نکاح ایک کنٹریکٹ ہے ، جو بھی اسے توڑے ، اس کو سزا دی جانی چاہئے ۔ اگر مرکزی حکومت کے ذریعہ بنایا جانے والا قانون قرآن کی روشنی اور آئین کے دستور کے مطابق نہیں ہوگا تو ملک کی کوئی بھی مسلم خاتون اس کو قبول نہیں کرے گی۔

Loading...

شائسہ عنبر نے کہا کہ انہوں نے لا کمیشن کو ایک خط لکھ کر گزارش کی تھی کہ کمیشن جو قانون پارلیمنٹ میں بھیجنا چاہتا ہے ، اس پر ایک مرتبہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، آل انڈیا مسلم وومین پرسنل لا بورڈ ، جماعت اسلامی ، جمعیت علما ہند اور طلاق شدہ خواتین پر کام کررہی تنظیموں سے گفتگو کی جائے ، جس کے جواب میں میں کہا گیا تھا کہ اگر ضروری ہوا تو ان سبھی سے تبادلہ خیال کیا جائے گا ، مگر اسیا نہیں ہوا ۔

ساتھ ہی ساتھ مجوزہ بل کو روکوانے کی اے آئی ایم پی ایل بی کی کوششوں کو دیر سے کی گئی کارروائی قرار دیتے ہوئے انہوں نے موجودہ حالات کیلئے بورڈ کو ہی قصوروار ٹھہرایا ۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام اور اس کے بعد خلفا کے زمانہ کو چھوڑ کر اب تک ہوئے طلاق کے زیادہ تر معاملات قران کی سورہ طلاق کے حساب سے نہیں ہوئے ہیں ، انہیں جائز مان لیا گیا ہے ۔ اس معاملہ میں بورڈ نے اپنی ذ مہ داری کیوں نہیں نبھائی ۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز