سپریم کورٹ کے ذریعہ غیر آئینی قرار دئیے جانے کے بعد تین طلاق کا پہلا کیس

Aug 23, 2017 08:58 PM IST | Updated on: Aug 23, 2017 08:59 PM IST

میرٹھ ۔ تین طلاق کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد طلاق کا نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔ میرٹھ کے اس واقعہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو بھری پنچایت کے سامنے طلاق دے دیا۔ منگل کو سپریم کورٹ نے ایک ساتھ تین طلاق بولنے پر چھ ماہ کی پابندی عائد کردی ہے۔ متاثرہ 3 بچوں کی ماں ہے اور وہ گزشتہ 6 سالوں سے جہیز کی اذیت کو جھیل رہی ہے۔ اس کے بعد بدھ کے روز اس نے پولیس سے انصاف کی درخواست کی۔

در اصل، یہ معاملہ میرٹھ کے سردھنا علاقے کے قصبہ کا ہے، جہاں چھ سال پہلے عرشی ندا کا نکاح محلہ کے ہی رہنے والے سراج خان کے ساتھ ہو اتھا۔ الزام ہے کہ شادی کے بعد سے سراج خان عرشی کو جہیز کے لئے پریشان کرتا تھا۔ اتنا ہی نہیں، سراج کے اہل خانہ بھی اس سے کار کا مطالبہ کر رہے تھے۔ چھ سال میں عرشی نے تین بچوں کو جنم دیا۔ تیسری بیٹی کی پیدائش کے بعد سراج نے کار کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد عرشی ندا کے گھر والے اپنے داماد کو سمجھانے بھی پہنچے لیکن اس نے پورے محلہ کے سامنے ہی اپنی بیوی کو تین طلاق بول کر اس سے خود کو الگ کر لیا۔

سپریم کورٹ کے ذریعہ غیر آئینی قرار دئیے جانے کے بعد تین طلاق کا پہلا کیس

منگل کو سپریم کورٹ نے ایک ساتھ تین طلاق بولنے پر چھ ماہ کی پابندی عائد کردی ہے۔

متاثرہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا بھی واسطہ دیا۔ لیکن سراج حکومت اور سپریم کورٹ کے لئے غلط لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے طلاق دینے پر بضد رہا۔ وہیں، عرشی ندا نے تھانہ جا کر پولیس سے انصاف کی گہار لگائی ہے۔ جہیز استحصال کے معاملہ میں متاثرہ خاتون نے تھانہ سردھنا میں تحریر دی ہے۔

متاثرہ کے اہل خانہ ان دنوں معاشی تنگی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے سامنے تین بچوں اور اپنی بیٹی کی دیکھ ریکھ کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ متاثرہ کے اہل خانہ ان دنوں معاشی تنگی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے سامنے تین بچوں اور اپنی بیٹی کی دیکھ ریکھ کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔

متاثرہ کے اہل خانہ ان دنوں معاشی تنگی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے سامنے تین بچوں اور اپنی بیٹی کی دیکھ ریکھ کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ عرشی کے اہل خانہ نے پولیس سے اپنی بیٹی کے نکاح کو بچانے کی اپیل کی ہے۔ فی الحال پولیس جانچ میں لگ گئی ہے اور اعلیٰ افسران اس معاملہ میں کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز