تین طلاق کے معاملہ پر سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں بنائی جاسکتی ہے پانچ ججوں کی آئینی بینچ

Feb 16, 2017 03:38 PM IST | Updated on: Feb 16, 2017 03:38 PM IST

نئی دہلی: تین طلاق کے معاملہ کی سماعت کے لئے سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ تشکیل دی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس جے ایس كھیهر نے یہ اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ 'اس معاملے میں صرف قانونی پہلوؤں پر ہی سماعت ہوگی۔ سبھی فریقوں کے ایک ایک لفظ پر سپریم کورٹ غور کرے گا۔ سپریم کورٹ قانون سے الگ نہیں جا سکتا '۔ سپریم کورٹ 11 مئی سے گرمیوں کی چھٹیوں میں معاملہ پر سماعت شروع کرے گا۔ 30 مارچ کو کیس کے معاملات طے کئے جائیں گے۔

جمعرات کو طلاق ثلاثہ کے معاملہ پر سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ عدالت نے تمام فریقوں سے کہا تھا کہ وہ کورٹ میں اس سلسلہ میں اٹھے سوالوں کی فہرست سونپیں۔ 14 فروری کو سماعت میں چیف جسٹس كھیهر نے کہا تھا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے ، جس میں انسانی حقوق کا مسئلہ بھی آسکتا ہے اور یہ دیگر معاملات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ لہذا ہم اس معاملہ میں یکساں سول کوڈ پر بحث نہیں کریں گے۔ کورٹ صرف قانونی پہلو پر فیصلہ کرے گا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں کیس کی سماعت پر سپریم کورٹ نے کہا تمام فریقوں کے وکیل تیار ہو کر آئیں اور ایک ہفتے میں سماعت مکمل ہوگی ۔

تین طلاق کے معاملہ پر سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں بنائی جاسکتی ہے پانچ ججوں کی آئینی بینچ

خیال رہے کہ تین طلاق کو غیر آئینی قرار دینے والی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہورہی ہے ۔پچھلی سماعت میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ میں ایک اور حلف نامہ داخل کر کے مرکز کی دلیلوں کی مخالفت کی تھی۔ بورڈ نے اپنے حلف نامہ میں کہا تھا کہ تین طلاق کو خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بتانے والی مرکزی حکومت کا موقف بیکار کی دلیل ہے۔ پرسنل لاء کو بنیادی حقوق کی کسوٹی پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ تین طلاق، نکاح اور حلالہ جیسے مسائل پر عدالت اگر سماعت کرتی ہے ، تو یہ جوڈیشیل لیجسلیشن کی طرح ہو گا۔ مرکزی حکومت نے اس معاملہ میں جو موقف اختیار کیا ہے کہ ان معاملات کو دوبارہ دیکھا جانا چاہئے، وہ بیکار ہے۔ پرسنل لاء بورڈ کا موقف ہے کہ معاملہ میں داخل عرضی مسترد کی جانی چاہئے، کیونکہ عرضی میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ، وہ جوڈیشیل ریویو کے دائرے میں نہیں آتے۔

حلف نامے میں پرسنل لاء بورڈ نے کہا تھا کہ پرسنل لاء کو چیلنج نہیں کیا جا سکتی۔ سماجی اصلاحات کے نام پر مسلم پرسنل لا کو دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا، کیونکہ یہ پریکٹس آئین کے آرٹیکل -25، 26 اور 29 کے تحت پروٹیكٹیڈ ہے۔ یکساں سول کوڈ پر لا کمیشن کی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ یکساں سول کوڈ آئین کے ڈايریكٹو پرنسپل کا حصہ ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز