اعظم خان کے خلاف 42 صفحات کی رپورٹ، وقف اراضی پر قبضہ کا الزام ، سی بی آئی جانچ کی سفارش

Apr 08, 2017 11:50 AM IST | Updated on: Apr 08, 2017 01:53 PM IST

لکھنو : سماج وادی پارٹی کے قدآور لیڈر اور اکھلیش حکومت میں شہری ترقی کے وزیر رہے اعظم خاں کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ سینٹرل وقف کونسل نے یوگی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اعظم اور ان کی بیوی کے خلاف سی بی آئی جانچ کرائی جانی چاہئے۔ اعظم پر وقف بورڈ اور محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کی زمین پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سینٹرل وقف کونسل نے اس معاملہ میں اعظم خان کے خلاف 42 صفحات کی رپورٹ تیار کی ہے ، جس میں اعظم پر رام پور میں قبرستان، عید گاہ کی زمین بھی قبضہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں 1 روپے کی لیز پر کروڑوں کی سرکاری زمین لے کر 'جوہر ٹرسٹ کے نام سے اسکول کھولے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔

اعظم خان کے خلاف 42 صفحات کی رپورٹ، وقف اراضی پر قبضہ کا الزام ، سی بی آئی جانچ کی سفارش

ادھر مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اس سلسلہ میں گزشتہ روز وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے بعد مرکزی وزیر نے کہا کہ اعظم خاں کیس پر غور کیا جائے گا، لیکن کسی طرح کا کوئی گھوٹالہ برداشت نہیں ہوگا۔

وہیں اعظم خان نے اپنے اوپر عائد الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے جوابی حملہ کرتے ہوئے الزام لگانے والوں کو غدار قرار دیا ۔ اعظم نے صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزام وقف کی جائیداد کو لے کر نہیں بلکہ وہ تعلیم کے لئے جو کچھ کر رہے ہیں ، اس کو لے کر لگایا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز