عربی۔ فارسی سفرناموں کے حوالے سے قدیم تہذیب اور تاریخ سمجھنے کی کوشش

Sep 20, 2017 07:55 PM IST | Updated on: Sep 20, 2017 07:55 PM IST

الہ آباد۔ عربی اور فارسی میں سفر نامہ لکھنے کی روایت قدیم زمانے سے رہی ہے ۔ عربی لکھے جانے والے’ سفر نامہ ابن بطوطہ‘ اور فارسی میں’سفر نامہ ابو طالب اسفہانی‘ کو تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔’عربی اور فارسی سفر ناموں کی سماجی اور ادبی اہمیت ‘ کے موضوع پرالہ آباد میں دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس سیمینارمیں ملک اور بیرون ملک کے محققین سفرناموں کے حوالےسے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کریں گے ۔

الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ عربی و فارسی کے زیراہتمام منعقد ہونےوالے دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا افتتاح ایرانی سفارت خانہ کے کلچرل کونسلر ڈاکٹرعلی دیہہ گاہی نے کیا ۔ سیمینار میں ہندوستان آنے والے سیاحوں اوران کے سفر ناموں کا جائزہ لیا گیا ۔ خاص طور سےعربی اور فارسی سفرناموں کی ادبی، تاریخی اورسماجی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ قدیم ترین سفرناموں کی معنویت اوراہمیت کبھی ختم نہیں ہو سکتی ۔سیمینار میں عربی اور فارسی سفرناموں اور ان کے لکھنے والوں کے بارے میں دلچسپ معلومات فراہم کی گئی۔ مقالہ نگاروں نے سفر ناموں میں قدیم ہندوستان کی تاریخ اور اس زمانے کے سماجی حالات پر روشنی ڈالی ۔ محققین کا کہنا تھا کہ عربی فارسی کے قدیم ترین سفر نامے اتنے معلوماتی ہیں کہ نئی نسل اس سے کافی کچھ حاصل کرسکتی ہے ۔

عربی۔ فارسی سفرناموں کے حوالے سے قدیم تہذیب اور تاریخ سمجھنے کی کوشش

دو دنوں تک چلنے والے اس بین الاقوامی سیمینار میں ہندوستان میں لکھے جانے والےعربی اورفارسی سفر ناموں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ خاص طور سے سلیمان سودا گر ،ابن بطوطہ اور ابو طالب اسفہانی کے سفرناموں کا بھر پور جائزہ لیا گیا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز