مقدمہ مجھ پر نہیں، رام کے نام پر ہندوستانی عوام کی عقیدت پر چلے گا: اوما بھارتی

Jul 03, 2017 08:31 PM IST | Updated on: Jul 03, 2017 08:31 PM IST

نئی دہلی۔  بی جے پی کی سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر اوما بھارتی نے کہا ہے کہ اجودھیا میں رام جنم بھومی معاملہ میں ان پر مقدمہ چلانا اصل میں رام کے نام پر ہندستان کے عام لوگوں کے عقیدے پر مقدمہ چلانا ہے۔ اوما بھارتی نے کل رات یہاں ایک پروگرام میں کہا کہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ اجودھیا کی 1992 کی رام جنم بھومی تحریک کے معاملے میں انہیں ملزم بنایا گیا ہے تو کیا وہ استعفی دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہیں گی کہ انہوں نے 2004 میں مدھیہ پردیش کی وزیراعلی کے عہدے سے استعفی اس لئے دیا تھا کیونکہ انہوں نے ہبلی میں کرفیو توڑا تھا اور عدالت نے انہیں ملزم مان کر وارنٹ جاری کردیا تھا ۔ انہوں نے اس لئے استعفی دیا تھا کہ وہ مجرم کے طور پر عہدے پر فائز نہیں رہ سکتی تھیں۔

اوما بھارتی نے کہا کہ رام جنم بھومی تحریک میں  بی جے پی کا ہر کارکن اور آر ایس ایس کا ہر سوئم سیوک شریک تھا اوراسی طرح سے وہ بھی شریک تھیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس ملک میں رام کا نام لینا اور اجودھیا جانا جرم کیسے ہوگیا ہے۔ محترمہ بھارتی نے کہا کہ اس ملک کے سو (100) کروڑ شہریوں کی عقیدت رام سے ہے ۔ گھر میں بچے کی پیدائش پر کوشلیہ کے رام اور شادی کے موقع پر رام سینا کی شادی نیز مرنے پر ’رام نام ستیہ‘ کا ورد کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ رام کے نام سے عقیدت کتنی گہری ہے۔

مقدمہ مجھ پر نہیں، رام کے نام پر ہندوستانی عوام کی عقیدت پر چلے گا: اوما بھارتی

اوما بھارتی: فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ رام جنم بھومی تحریک میں حصہ داری بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور انہیں خود ملزم بنا کر مقدمہ چلانا دراصل رام کے نام پر بی جے پی کے عقیدے پر مقدمہ چلانا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز