اناو اجتماعی آبروریزی کیس : سی بی آئی کے پاس بی جے پی ممبر اسمبلی کے خلاف ہیں آبروریزی کے "پختہ ثبوت"۔

اناو اجتماعی آبروریزی کیس میں سی بی آئی کو جانچ کرتے ہوئے تقریبا ایک مہینہ سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ۔

May 11, 2018 10:00 PM IST | Updated on: May 11, 2018 10:02 PM IST

لکھنو : اناو اجتماعی آبروریزی کیس میں سی بی آئی کو جانچ کرتے ہوئے تقریبا ایک مہینہ سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی کے پاس اس بات کے پختہ ثبوت ہیں ، جس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پولیس بی جے پی ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے ساتھ مل کر کام کررہی تھی۔

بی جے پی ممبر اسمبلی کا کہنا تھا کہ اس معاملہ میں انہیں پھنسایا جارہا ہے۔ سی بی آئی اس معاملہ میں چارج شیٹ فائل کرنے والی ہے ۔ حالانکہ سی بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اس ماملہ میں کوئی بھی بیان نہیں دیا ہے ۔ ساری باتیں پوری طرح سے قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔

اناو اجتماعی آبروریزی کیس : سی بی آئی کے پاس بی جے پی ممبر اسمبلی کے خلاف ہیں آبروریزی کے

بی جے پی ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر ۔ فائل فوٹو

کال ریکارڈس بتاتے ہیں کہ ماکھی پولیس اسٹیشن میں تعینات ایس ایچ او اور لوکل سرکل افسر سے ممبر اسمبلی کی فون پر کئی مرتبہ بات چیت ہوئی ۔ ذرائع کے مطابق جب معطل کئے گئے افسران اور ممبر اسمبلی سے پوچھ گچھ کی گئی تو وہ اس کا کوئی بھی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔

یہ فون کال اس وقت کئے گئے تھے جب مبینہ طور پر متاثرہ کا اغوا کیا گیا تھا اور جس دوران چلتی کار میں اس کی آبروریزی کی گئی تھی۔ یہ باتیں اس بات کو پختہ کرنے کیلئے کافی ہیں کہ ملزم اس کیس کو متاثر کرنے کی کوشش کررہا تھا تاکہ ان کے خلاف کسی طرح کی شکایت درج نہ ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق چار جون سے 12 جون کے درمیان کے واقعات کا جس طرح سے متاثرہ نے تذکرہ کیا تھا ، وہ ساری ٹھیک لگ رہی ہیں اور اس کی ساری باتیں ایک دوسرے سے جڑی بھی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب سینگر اور اس کے ساتھی کسی بھی بات کا صحیح طریقہ سے جواب نہیں دے پارہے ہیں ۔ لیکن متاثرہ مجسٹریٹ کے سامنے دئے گئے اپنے بیان پر مسلسل قائم رہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز