یوپی اسمبلی انتخابت : پانچویں مرحلہ کی پولنگ ختم ، 51 اسمبلی سیٹوں پر 57.36 فیصد ووٹنگ

Feb 27, 2017 07:10 PM IST | Updated on: Feb 27, 2017 08:17 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی کے پانچویں مرحلے کے انتخابات میں 11 اضلاع کے 51 سیٹوں پر آج سخت سیکورٹی کے درمیان57.36 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ریاستی الیکشن افسر کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اکادکاواقعات کو چھوڑ کر پولنگ عام طور پر پرامن رہی۔ گزشتہ چار مراحل کے مقابلے اس مرحلے میں نسبتا کم ووٹنگ ہوئی۔ بستی میں58.22 فیصد ووٹ پڑے جبکہ سنت كبيرنگر میں 52 فیصد، بلرام پور میں 53 فیصد، سدھارتھ نگر میں 60 فیصد اور گونڈا میں 55 فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

اس مرحلے میں 18822 بوتھس پر صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک پولنگ ہوئی اور 607 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بندہو گئی۔ اس دوران سیکورٹی کے چاق و چوبند انتظامات کئے گئے تھے۔ ادھر، اتر پردیش میں فیض آباد ضلع کی ملكي پور (محفوظ) سیٹ سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) امیدوار اور صوبے کے ہوم گارڈ کےوزیر اودھیش پرساد کی گاڑی پر حملہ کر کے چار کارکنوں کے ساتھ مار پیٹ کے الزام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 10 کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

یوپی اسمبلی انتخابت : پانچویں مرحلہ کی پولنگ ختم ، 51 اسمبلی سیٹوں پر 57.36 فیصد ووٹنگ

سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ انت دیو نے  بتایا کہ گرفتار لوگوں میں بی جے پی امیدوار بابا گورکھناتھ کا بھائی شبھم بھی شامل ہے۔ ایس پی امیدوار مسٹر پرساد کی جانب سے دی گئی تحریر میں الزام لگایا گیا ہے کہ کل دیر رات ان کی گاڑی سے پارٹی کارکن انتخابات کے کام سے نکلے تھے۔ ان کی گاڑی کو ملكي پور مارکیٹ میں روک لیا گیا اور کارکنوں کو بری طرح زخمی کر دیا گیا۔

سنت كبيرنگر سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ضلع کے تین اسمبلی حلقوں میں مهداول، خليل آباد، دھنگھٹا میں پانچویں مرحلے کی ووٹنگ کے دوران اکادکا واقعات کو چھوڑ کر پرامن طریقے سے انجام پزیر ہو گئی۔ ووٹنگ میں 52 فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ خليل آباد، دھنگھٹا اسمبلی حلقہ کے دو گاؤں کے باشندوں نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ حکام کے سمجھانے بجھانے کے بعد شام تقریبا تین بجے سے پولنگ شروع ہو پائی۔

خليل آباد کے سابق ممبر پارلیمنٹ وایس پی لیڈر بھال چند یادو کو ووٹ دے کر آنے کے بعد ان کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی، اس وجہ سے ان میں غصہ نظرآیا۔ پولنگ متاثر ہونے کی شکایت کے بعد ضلع الیکشن افسر نے انہیں فون کر کےبھگتا گاؤں میں واقع اپنے گھر سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی۔مختلف پولنگ مراکز پر ای وی ایم خراب ہونے کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے پولنگ میں رکاوٹ آئی۔

دھنگھٹا اسمبلی کے سكرولي پدم پٹی پرواگاؤں کے لوگوں نے سڑک تعمیر نہ ہونے اور خلیل آباد اسمبلی کے چكيا گاؤں کے باشندوں نے ریلوے لائن کی مخالفت میں ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ افسران کے کافی سمجھانے کے بعد وہ ووٹنگ کے لئے تیار ہوئے۔

بستی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق چھاؤنی کے علاقے میں فرضی ووٹنگ کے سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے کارکنوں کے درمیان مارپیٹ ہوئی۔ پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ بستی ضلع کی هرريا اسمبلی علاقے کے چھاؤنی تھانے کے دھرولي بابو پولنگ مرکز پر فرضی ووٹنگ کے معاملے پر بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے مار پیٹ کی۔ دھرولي بابو پولنگ مرکز پر بی جے پی کے حامی کارکن ببلو سنگھ نے سماج وادی پارٹی کے کارکن دینو سنگھ پر فرضی ووٹنگ کرانے کا الزام لگایا۔ اسے لے کر فریقین میں مار پیٹ شروع ہو گئی۔ پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا۔

بہرائچ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فرضی ووٹنگ کے معاملے پر ایس پی کارکن کی حمزہ پورہ پولنگ بوتھ پر سکیورٹی اہلکاروں نے پٹائی کردی۔ وہیں بی ایل اوکی غیر موجودگی کی وجہ سے وہاں کافی افرا تفری کا ماحول رہا۔ای وی ایم کی غلط سیٹنگ پر سابق ممبر پارلیمنٹ اور ان کی بیٹی و بہو کی سکیورٹی اہلکاروں سے جھڑپ ہوگئی۔ شہر کے سالارگنج میں واقع پرائمری اسکول میں 12 بوتھ بنے ہوئے تھے۔ ان میں آٹھ بوتھ کے بی ایل او دوپہر تک غائب رہے۔ اس سے ووٹروں اور سکیورٹی اہلکاروں میں رہ رہ کر جھڑپ ہوتی رہی ۔مہاراج سنگھ انٹر کالج کے بوتھ پر بھی بی ایل او کی غیر موجودگی کی وجہ سے تنازعہ کی صورت حال رہی۔ بہرائچ صدر کی ایس پی امیدوار رعاب سعیدہ، ان کی بیٹی ڈاکٹر الويرہ شاہ اور بہو ماریہ شاہ نے ناراضگی ظاہر کی۔ کارکن بھی مشتعل ہوئے۔ اس پر سکیورٹی اہلکاروں سے جھڑپ کی صورت حال بنی۔ تاہم ڈی ایم اور ایس پی نے معاملے کو رفع دفع کر دیا۔

آزاد انٹر کالج میں بھی فرضی ووٹنگ کو لے کر رہ رہ کر جھڑپ ہوئی۔ وہیں رسيا کے بھوپت پور پولنگ اسٹیشن پر گرام پردھان کی من مانی کرنے کی شکایت موصول ہونے پر ضلع مجسٹریٹ گرام پردھان کو اپنے ساتھ اٹھا لے گئے۔جنہیں کافی دیر بعد چھوڑ دیا گیا۔ دوسری طرف ریاست کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل (قانون) دلجیت چودھری کا کہنا ہے کہ انتخابات میں کہیں سے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ ووٹنگ پرامن رہا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز