مسلم ووٹروں کی نگاہیں پارٹی سے زیادہ امید واروں پرمرکوز ، صاف ستھری شبیہ والے امیدوار کو ہوسکتا ہے فائدہ

ووٹروں اور سماج کے ذمہ دار لوگوں کے رجحانات سے تو یہی اندازہ ہورہاہےکہ اس مرتبہ مذہب اور ذات پات کا اثر اترپردیش کے اسمبلی الیکشن میں کم ہی نظر آئے گا

Jan 24, 2017 11:14 PM IST | Updated on: Jan 24, 2017 11:16 PM IST

لکھنؤ (طارق قمر ) اتر پردیش میں بھلے ہی کانگریس اورسماجوادی پارٹی کے درمیان اتحاد ہوگیا ہو اور مایاوتی نے 97 مسلم چہروں کو ٹکٹ دیدئے ہوں ، لیکن ووٹروں اور سماج کے ذمہ دار لوگوں کے رجحانات سے تو یہی اندازہ ہورہاہےکہ اس مرتبہ مذہب اور ذات پات کا اثر اترپردیش کے اسمبلی الیکشن میں کم ہی نظر آئے گا۔

مسلم ووٹ بینک پرسماجوادی پارٹی کی پرانی دعویداری رہی ہے۔ کبھی مُلا ملائم کے نام پر کبھی مسیحا ملائم تو کبھی اعظم خاں اور دیگر مسلم وزیروں کے نام پرسماج وادی پارٹی مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی رہی ہے۔تاہم اس مرتبہ معاملہ کچھ الگ سا نظر آرہا ہے۔ مایا وتی نے بھی کافی مسلم چہروں کو میدان میں اتار ہے اور مسلم اوردلت ووٹ بینک کی مدد سے اترپردیش کے اقتدار پر قابض ہونے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ ادھر راشٹریہ لوگ دل نے بھی اپنی سیٹوں کے بٹوارے میں سات مسلم چہروں کو سامنے رکھا ہے ۔ علاوہ ازیں بی جے پی بھی یہی کہہ رہی کہ صوفی کانفرنس کے بعد سے فضا اس کے حق میں ہموار ہوئی ہے۔ لیکن مسلم طبقہ کا اپنا نظریہ ہے ۔ وہ اب پارٹی کی بجائے اچھے اور بہتر امیدوار کی تلاش کر کے اس کو ووٹ دینے کے موڈ میں ہے ۔

مسلم ووٹروں کی نگاہیں پارٹی سے زیادہ امید واروں پرمرکوز ، صاف ستھری شبیہ والے امیدوار کو ہوسکتا ہے فائدہ

مسلمانوں کی اہم تنظیم جمعیۃ علما کے ارشد مدنی گروپ نےکانگریس اور سماج وادی پارٹی کے اتحاد پرخوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنےووٹروں کوغائبانہ اشارہ بھلے ہی دے دیا ہو ، لیکن محمود مدنی گروپ کی خاموشی بھی کم معنی خیز نہیں ۔ بات خواہ کانگریس کی ہو یا پھر سماجوادی پارٹی کی، بہوجن سماج پارٹی یا کسی اور جماعت کی ، اتر پردیش کے مسلمانوں نے سب جماعتوں کے سربراہوں کے سروں پر تاج رکھ کر دیکھ لیے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا اب مکمل اعتماد کسی بھی جماعت پر نہیں رہاہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز