ہر سیاسی پارٹی کی مسلم ووٹ بینک پرنظر، مسلم ووٹروں پر علما کی سیاسی اپیلوں کا نہیں کوئی اثر

Jan 06, 2017 07:28 PM IST | Updated on: Jan 06, 2017 07:28 PM IST

لکھنؤ (طارق قمر) اتر پردیش کا سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے ۔ سبھی سیاسی جماعتیں مسلم ووٹ بینک کی بنیاد پر اقتدار تک پہنچنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مسلم سیاستدانوں اورعلما کی بیان بازی بھی شروع ہوچکی ہے ۔ لیکن مسلم ووٹروں نے ابھی تک اپنے پتے نہیں کھولےہیں۔ سچ یہی ہے کہ سیاسی استحصال کا شکاراس طبقہ کو نہ تو اب علما کی اپیلوں کی فکر ہے اور نہ ہی مسلم وزیروں کے وعدوں کی پروا ، اور فکر ہو بھی کیوں، ا ب تک انہیں نہ تحفظ ملا ہے اور نہ انہوں نے ترقی کا مزہ چکھا ہے۔

اتر پردیش میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد سبھی سیاسی پارٹیاں اپنا اپنا ووٹ بینک بچائے رکھنے کی تیاریوں میں پوری شدومد کے ساتھ مصروف ہوگئی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس مرتبہ بھی سبھی سیاسی جماعتوں کی نظرمسلم ووٹ بینک پر مرکوز ہے ، جو پارٹیوں کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے ۔ سبھی جماعتوں کے دعوے بڑے بڑے ہیں۔

ہر سیاسی پارٹی کی مسلم ووٹ بینک پرنظر، مسلم ووٹروں پر علما کی سیاسی اپیلوں کا نہیں کوئی اثر

ایک طرف جہاں داخلی خلفشار کے بعد بھی سماج وادی پارٹی کو اپنے اس مخصوص ووٹ بینک سے کافی امیدیں وابستہ ہیں، وہیں مایاوتی کا کہنا ہےکہ سماج وادی پارٹی کے ساتھ جاکر مسلمان اس مرتبہ اپنا ووٹ بیکار نہیں کریں گے۔ جبکہ کانگریس کا ماننا ہے کہ مسلم طبقہ حسرت سے اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ بی جے پی کا اقلیتی شعبہ بھی اپنا دعوی ٹھونک رہا ہے۔ لیکن منظر ،پس منظر سے الگ ہے۔ ادھر مسلم دانشوروں کا کہنا ہےکہ اب مسلم طبقہ کسی کےدبائومیں نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست میں انتخابی بگل بج چکا ہے ۔ 11 فروری سے 8 مارچ تک سات مرحلوں میں سیاسی جماعتوں کی تقدیر لکھی جائے گی اور پھر 11 مارچ کو نتیجہ سامنے آجائے گا۔ سیاسی جماعتوں کے دعوے اپنی جگہ ہیں ، لیکن اس مرتبہ مسلم ووٹروں کی خاموشی کافی معنی خیز سمجھی جارہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز