وزیر اعظم مودی کا اکھلیش پر نشانہ ، تاروں میں بجلی کی حقیقت تو راہل گاندھی نے ہی کھول دی

Mar 03, 2017 07:51 PM IST | Updated on: Mar 03, 2017 07:51 PM IST

مرزاپور: کانگریس، سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کو اتر پردیش کی بدحالی کیلئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست کی حالت سدھرتے ہی ملک خود بخود ترقی کی راہ پکڑ لے گا۔ مرزاپور کے منیهان میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹرنریندر مودی نے کہاکہ اترپردیش اتنی بڑی ریاست ہے کہ اگر یہ ملک ہوتا تو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں ملک کہا جاتا۔ اگر یہاں سے بیماری، بے روزگاری، غربت مٹ جائے تو ہندوستان اپنے آپ آگے بڑھ جائے گا۔ اترپردیش بہت طاقت والی ریاست ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس الیکشن میں کون ممبر اسمبلی بنے نہ بنے، حکومت کس کی بنے، یہ مسئلہ نہیں رہا۔ اب تو یہ مسئلہ ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کا مستقبل کون یقینی بنائے گا۔ ریاست کی بہن بیٹیوں کی حفاظت کی ذمہ داری کون لے گا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ یہ الیکشن ریاست میں کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی سے نجات کا موقع ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ ریاست میں ہونہار نوجوانوں کو نوکری ملنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ اس کی وجہ اقربا پروری اور بدعنوانی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے کئی بار متنبہ کیا مگر حکومت کو اس کی عادت لگ گئی ہے۔ ریاست میں ہر چیز کا دام لگتا ہے۔ شکایت درج کروانے، پنشن نکالنے اور سرکاری منصوبوں کا فائدہ دلوانے کے بدلے میں کچھ نہ کچھ دینا ہوتا ہے۔ یہ بند ہونا چاہئے۔

وزیر اعظم مودی کا اکھلیش پر نشانہ ، تاروں میں بجلی کی حقیقت تو راہل گاندھی نے ہی کھول دی

سماجوادی پارٹی کے صدر اور وزیر اعلی اکھلیش یادو پر طنز کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ اکھیلیش جی ، مجھے بھی کام بتاتے رہتے ہیں۔ وہ سی ایم ہیں، میں یوپی سے ممبر پارلیمنٹ ہوں۔ وہ کام بتائیں تو مجھے کرنا ہی چاہئے۔ مجھ سے کہا کہ تار پکڑ کر دیکھ سکتے ہیں کہ بجلی جاتی ہے یا نہیں، مگر ان کی اس بات کا جواب مهينوں پہلے ان کے نئے ساتھی نے دے دیا تھا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ سال کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے یہاں کھاٹ سبھا کا انعقاد کیا تھا ۔ ان کا ہاتھ بجلی کے تار پر لگ گیا تھا جس پر سینئر کانگریسی لیڈر مسٹر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہاتھ مت رکھئے، دقت ہو جائے گی۔ اس پر مسٹر راہل گاندھی کا جواب تھا ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ یہاں کے تاروں میں بجلی نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ تقریبا 13 سال پہلے ایس پی کے بانی ملائم سنگھ یادو نے وزیر اعلی کے طور پر بریلی اور مرزا پور کے درمیان گنگا پر پل بنانے کی بات کہی تھی مگر یہ کام اب تک نہیں ہوا۔ یہی پل سیفئی کے ارد گرد بنانا ہوتا تو 13 سال انتظار نہيں کرنا پڑتا۔ والد کی طرف سے عوام سے کیا گیا وعدہ نبھانے میں وزیر اعلی اکھلیش نے کوتاہی برتی۔ بیٹا، باپ کے کام کو ادھورا نہیں چھوڑتا۔ یہ کیسے لوگ ہیں کہ اپنے والد کے وعدوں کو بھی پورا نہیں کرتے، تو یہ عوام کے لئے کیا کریں گے۔ مسٹرنریندر مودی نے کہا کہ"وندھياچل سیاحت کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ لیکن یہاں کی حکومت کو نہ تو سیاحت کی فکر ہے اور نہ ترقی کی۔ سیاحت میں تو کم سرمایہ سے زیادہ کمائی ہو سکتی ہے۔ آٹو، نذرانہ، چائے والے سب كما ئیں گے۔ اگر اس سوچ کے ساتھ ترقی ہو تو مرزا پور بھی آگے بڑھ جائے گا۔

بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی پر نشانہ لگاتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ بہن جی مرزا پور سے پتھر لے گئیں، لیکن جب تحقیقات شروع ہوئی تو بولیں کی یہ پتھر راجستھان سے لایا گیا ہے۔ آپ بتائیے کہ کیا آپ کو مرزاپور کے پتھروں سے اتنی نفرت ہے کہ آپ بتانا بھی نہیں چاہتی ہیں۔ جن کو مرزاپور کے پتھروں سے نفرت ہو ایسے لوگ مرزاپور کے ووٹ کے مستحق ہیں کیا؟۔ سابقہ مراحل میں ہونے والی ووٹنگ میں اضافہ سے کافی خوش ہوکر وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست کے لوگوں نے کمال کر دیا ہے۔ ریاست میں ایک سے بڑھ کر ایک ریلی ہو رہی ہے۔ سارے ریکارڈز توڑ دیے گئے ہیں۔ ووٹنگ میں بھی ریکارڈ توڑے جا رہے ہیں اور آگے بھی توڑے جائیں گے اور 11 مارچ کو ایس پی،بی ایس پی کانگریس تینوں کو جھٹکا لگنے والا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز