سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد کا اعلان ، ایس پی 298 اور کانگریس 105 سیٹوں پر لڑے گی الیکشن

Jan 22, 2017 06:30 PM IST | Updated on: Jan 22, 2017 10:53 PM IST

لکھنؤ: اتحاد کو لے کر تمام قیاس آرائیوں پر  روک لگاتے ہوئے فرقہ وارانہ قوتوں کو اترپردیش کے اقتدار میں آنے سے روكنے کی قرارداد کے ساتھ برسراقتدار سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور کانگریس نے آج مل کر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر راج ببر اور سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم نے یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں جماعتوں کے اتحاد کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس موقع پر ایس پی کے قومی نائب صدر كرمئے نندا بھی موجود تھے۔

مسٹر اتم نے کہا کہ اتحاد کے تحت ایس پی 298 اور کانگریس 105 اسمبلی حلقوں میں اپنے اپنے امیدوار کھڑا کرے گی۔ سیٹوں کی اس تقسیم کے سلسلے میں اگرچہ انہوں کسی طرح کی تفصیل پیش نہیں کی۔ ایس پی ریاستی صدر نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) جیسی فرقہ وارانہ قوتوں کو صوبے کے اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ایس پی اور کانگریس نے مل کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں پارٹیاں مل کر پورے دم خم سے الیکشن لڑیں گی تاکہ ترقی کو رفتار دینے والے اکھلیش یادو ایک بار پھر وزیر اعلی کی ذمہ داری سنبھال سکیں اور صوبے کی ترقی کومزید تیز کیا جاسکے۔

سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد کا اعلان ، ایس پی 298 اور کانگریس 105 سیٹوں پر لڑے گی الیکشن

اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر راج ببر نے کہا کہ بی جے پی کی پولرائزیشن اور تخریبی کوششوں کو دھول چٹانے اور سیاسی ونظریاتی قوتوں کو مضبوط کرنے کے منصوبے کے ساتھ کیا ہوا یہ اتحادتاریخی ہے۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو کی تخلیقی کوششوں سے یہ اتحاد ممکن ہوا۔ دونوں جماعتوں کی مشترکہ حکومت کے قیام کے ایک ہفتے کے اندر اندر مشترکہ ایجنڈا پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اورسماجوادی پارٹی کے اتحاد کو اقتدار میں آنے پر سماجی انصاف اور کمزور طبقوں کو با اختیار بنانے کے لئےپوری دلجمعی سے کام کیا جائے گا اور ذات اور مذہب سے اوپر اٹھ کر کمزور طبقات کی مالی حالت کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوششی کی جائیں گی۔

اس سے قبل ایس پی کے ریاستی دفتر میں منعقد ہونے والے پریس کانفرنس کو عین وقت پر ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا۔ صحافیوں سےپوری طرح پرُایک چھوٹے سے ہال میں منعقد پریس کانفرنس میں دونوں لیڈران نے اگرچہ صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنی اپنی بات کہہ کر وہاں سے نکل گئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز