بھارتیہ جنتا پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ناراض ہیں پارٹی کے کچھ مسلم اراکین

لکھنؤ۔ بی جے پی اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے بڑھنے کی خبروں کے درمیان اقلیت نوازی کے دعوے بھی خوب کئے جارہے ہیں اور بالخصوص مسلم ووٹ بینک کو راغب کرنے کی کوششیں بھی برابر کی جا رہی ہیں ۔

Feb 09, 2017 03:48 PM IST | Updated on: Feb 09, 2017 03:50 PM IST

لکھنؤ۔ بی جے پی اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے بڑھنے کی خبروں کے درمیان اقلیت نوازی کے دعوے بھی خوب کئے جارہے ہیں اور بالخصوص مسلم ووٹ بینک کو راغب کرنے کی کوششیں بھی برابر کی جا رہی ہیں ۔ لیکن ایک اہم سچائی یہ بھی ہے کہ اس بار ایک بھی مسلم امید وار کوٹکٹ نہ دیے جانے سےعام مسلم ووٹروں کی تو بات ہی کیا بی جے پی کے اہم مسلم اراکین بھی ناراض ہیں۔ بی جے پی واحد ایسی پارٹی ہے، جس نے اس بار اترپردیش اسمبلی کی چار سو تین اسمبلی نشستوں میں سے ایک نشست پر بھی مسلم امیدوار نہیں اتارا ہے۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ٹکٹ بٹوارے کا تعلق کسی ذات مذہب یا دھرم سے نہیں ہے اور نہ مذہبی خطوط پر الیکشن کی حکمت عملی طے کی جا سکتی ہے۔ لیکن جب پارٹی اراکین ہی سوال اٹھانے لگیں تو غور وخوض کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔  بی جے پی اقلیتی مورچے کے ریاستی جنرل سکریٹری شفاعت حسین کہتے ہیں کہ کئی اہم لوگوں کے ذریعے ٹکٹ مانگنے کے باوجود بھی مسلم نمائندوں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پارٹی کے علاوہ جن علماء اور دیگر لوگوں نے پچھلے الیکشن میں بی جے پی کی حمایت کی تھی وہ بھی کچھ بدگمان وبدظن ںظر آ رہے ہیں۔ اس لئے محض دعووں اور وعدوں کی سیاست کی بنیاد پر مسلم طبقے کے ووٹوں کا حصول بی جے پی ہی کیا کسی کے لئے بھی آسان نہیں ۔ شفاعت حسین یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ایک طویل عرصہ پارٹی کی خدمت میں گزاری ہے۔ ایک انتھک کارکن کی حیثیت سے پارٹی ویلفئر کے لئے کام کیا ہے۔ پارٹی اقلیت مخالف نہیں ہے ۔ مسلمانوں کا بھلا کرنا چاہتی ہے لیکن شاہنواز جیسے لیڈر کبھی کبھی ایسا کچھ بول جاتے ہپں جس سے بی جے پی اور اقلیتوں کے مابین فاصلہ بھی بڑھتا ہے اور  حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ناراض ہیں پارٹی کے کچھ مسلم اراکین

وہیں اتر پردیش سے الگ ہو کر بنے صوبے اتراکھنڈ میں بھی بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ یہاں پر بھی شاہنواز حسین نے یہ ہی صفائی دی کہ بی جے پی مذہب کی بنیاد پر ٹکٹ نہیں دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے سماجی طور پر امیدواروں کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن کیا مسلمانوں کو  بی جے پی سماج کا حصہ نہیں مانتی ہے؟

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز