یوپی میں انتخابی گھمسان میں نجی رشتے داؤں پر، کہیں میاں بیوی تو کہیں باپ بیٹے ہیں آمنے سامنے

Feb 10, 2017 09:33 AM IST | Updated on: Feb 10, 2017 09:34 AM IST

نئی دہلی۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں باہمی رشتوں کو بھی مشکل مرحلہ سے گزرنا پڑے گا۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے اس سیاسی دنگل میں کہیں میاں بیوی تو کہیں باپ بیٹے کے باہمی تعلقات داؤ پر ہیں۔ اتر پردیش کے سیاسی دنگل میں کئی قد آور لیڈروں کو اپنوں کے ہی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کہیں شوہر کے سامنے بیوی ہے تو کہیں باپ کو چیلنج کرنے کے لئے بیٹا ہی کھڑا ہو گیا ہے۔ مسئلہ اس بات کا ہے کہ عوام کے سامنے اپنوں کی خامیوں کو ہی اجاگر کرنا پڑ رہا ہے۔ باہمی لڑائی کا فائدہ بھی مخالفین کو مل رہا ہے۔

رائے بریلی کی بچھراواں اسمبلی سیٹ سے ٹکٹ نہ ملنے سے باغی ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ممبر اسمبلی رام لال اکیلا کے بیٹے وركانت نے پرچہ نامزدگی داخل کی ہے۔ وہیں رام لال اکیلا کو بھی ایس پی سے ٹکٹ نہیں ملا تو انہوں نے بھی راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) سے بچھراواں سیٹ سے ہی انتخابی میدان میں تال ٹھونک دی۔ اب باپ بیٹے کی لڑائی دلچسپ بنتی جا رہی ہے۔ باپ کے سامنے چیلنج پیش کر رہے وكرانت نے کہا، "پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ سیاست کے فن میں نے والد صاحب سے ہی سیکھے ہیں۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جیت کے لئے پوری کوشش کروں گا، سامنے چاہے جو بھی ہو۔"

یوپی میں انتخابی گھمسان میں نجی رشتے داؤں پر، کہیں میاں بیوی تو کہیں باپ بیٹے ہیں آمنے سامنے

اسی طرح رائے بریلی کی ہی ہرچند پور اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے ٹکٹ پر کنچن لودھی میدان میں ہیں، لیکن ان کی ساس گڑیا لودھی نے بھی بہو پر احترام نہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے انڈین جسٹس پارٹی سے پرچہ داخل کر دیا ہے۔ ساس بہو کی لڑائی نے علاقے کے انتخابی دنگل کو کافی دلچسپ بنا دیا ہے۔

ساس کے خلاف الیکشن لڑ رہیں کنچن نے صفائی دی۔ وہ کہتی ہیں، "ساس تو ماں کی طرح ہوتی ہے اور جہاں تک بات احترام کی ہے، تو میں ان کا بہت احترام کرتی ہوں۔ کسی کے بہکاوے میں آکر انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔"

رائے بریلی کی طرح ہی الہ آباد کی دو نشستوں پر بھی دلچسپ مقابلہ ہے۔ بی ایس پی حکومت میں وزیر رہے نند گوپال نندی کو بی جے پی نے الہ آباد جنوبی سے امیدوار قرار دیا ہے۔ نندی کے خلاف پارٹی کے اندر ہی کافی ناراضگی ہے۔

سابق اسمبلی اسپیکر كےشری ناتھ ترپاٹھی کے خلاف الیکشن جیتنے کے بعد نندی پر بی جے پی کارکنوں کے ظلم و ستم کا الزام بھی لگا تھا۔ نندی پر ایک بار جان لیوا حملہ بھی ہو چکا ہے۔ چند ماہ پہلے ہی کانگریس میں شامل ہونے والے نندی نے حال ہی میں بی جے پی کی رکنیت لی تھی۔ انہیں بی جے پی نے فورا ٹکٹ بھی پکڑا دیا تھا۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ نندی کی بیوی ابھیلاشا گپتا نے بھی شوہر کے خلاف انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بھی جنوبی سیٹ سے ہی آزاد امیدوار کے طور پر پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ یہاں پر شوہر اور بیوی کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز