سیفئی میں ووٹ ڈالنے پہنچے اکھلیش، کہا : میں نے ایس پی امیدوار کو ووٹ دیا ، چچا شیوپال کا نہیں لیا نام

Feb 19, 2017 12:32 PM IST | Updated on: Feb 19, 2017 12:34 PM IST

سیفئی : اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں 12 اضلاع کی 69 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعلی اکھلیش یادو بھی ووٹ ڈالنے سیفئی پہنچے۔جب اکھلیش یادو ووٹ ڈالنے کے بعد باہر نکلے ، تو صحافیوں نے ان پر لگاتار سوال داغنے شروع کردئے ۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اپنا ووٹ چچا شوپال یادو کو دیا ہے؟ جواب میں اکھلیش نے شیو پال یادو کا نام تک نہیں لیا۔

وزیر اعلی نے صرف اتنا کہا کہ انہوں نے سماج وادی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ چچا ہو یا کوئی اور ، ایس پی امیدوار کو ہم سب سپورٹ کر رہے ہیں۔

سیفئی میں ووٹ ڈالنے پہنچے اکھلیش، کہا : میں نے ایس پی امیدوار کو ووٹ دیا ، چچا شیوپال کا نہیں لیا نام

اکھلیش کے جواب میں شیو پال کا ذکر نہیں ہونا یہ صاف بتاتا ہے کہ ابھی بھی دونوں کے درمیان تلخی کم نہیں ہوئی ہے۔ شیو پال یادو سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر ہی جسونت نگر سیٹ سے میدان میں ہیں اور سیفئی اسی سیٹ سے تعلق رکھتا ہے۔

اکھلیش سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں وہ وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے؟ تو جواب میں اکھلیش نے کہا کہ میرا بہت بڑا خواب نہیں ہے کہ میں دہلی جاؤں ۔میں یوپی میں خوش ہوں۔ مجھے اترپردیش میں کام کرنا ہے۔

تیسرے مرحلے میں کل 826 امیدوار میدان میں ہیں اور تقریبا دو کروڑ 41 لاکھ ووٹر ہیں۔ ووٹنگ کے لئے کل 25 ہزار 603 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ اٹاوہ سیٹ پر سب سے زیادہ 21 امیدوار میدان میں ہیں ، جبکہ بارہ بنکی کی حیدرگڑھ سیٹ پر سب سے کم تین امیدوار ہیں۔

یہ مرحلہ اس لئے کافی اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ اس میں سماج وادی پارٹی کے گڑھ اٹاوہ، مین پوری، قنوج، بارہ بنکی اور فرخ آباد میں پولنگ ہورہی ہے۔ اس مرحلہ میں شیو پال سنگھ یادو، ملائم کی چھوٹی بہو ارپنا یادو اور ریتا بہوگنا جوشی، اکھلیش کے چچا زاد بھائی انوراگ یادو، پردیش کے کابینہ وزیر اروند سنگھ گوپ، وزیر مملکت فرید محفوظ قدوائی، وزیر مملکت راجیو کمار سنگھ، وزیر مملکت نتن اگروال، بی ایس پی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے برجیش پاٹھک اور کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پی ایل پنیا کے بیٹے تنج پنیا کے سیاسی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔

سال 2012 کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے ان 69 سیٹوں میں سے 55 سیٹیں جیتی تھیں۔ بی ایس پی کو چھ اور بی جے پی کو پانچ سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس کے کھاتے میں دو نشستیں گئی تھیں اور ایک نشست آزاد امیدوار کو حاصل ہوئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز