یوپی اسمبلی انتخابات: ایک فون کی گھنٹی بجی اور ہو گیا کانگریس ۔ ایس پی میں اتحاد

Jan 23, 2017 09:05 AM IST | Updated on: Jan 23, 2017 09:06 AM IST

نئی دہلی۔ کافی اٹھاپٹخ کے بعد آخر کار سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور کانگریس نے مل کر یوپی اسمبلی انتخابات میں اترنے کا فیصلہ لے لیا ہے۔ ایسے میں ہر کسی کے ذہن میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ بھلا ایسا کیا ہوا کہ تقریبا ٹوٹ چکی بات چیت کے بعد ایس پی اور کانگریس میں اتحاد ہو گیا؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی کے درمیان ہوئی ایک فون کال کے بعد اس اتحاد پر مہر لگ گئی۔ طے ہوا کہ سماج وادی پارٹی 298 نشستوں اور کانگریس 105 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔

سماج وادی پارٹی کے کئی لیڈر شروع سے ہی کہہ رہے تھے کہ کانگریس کا کوئی بھی بڑا لیڈر اس اتحاد کے لئے ایس پی کے اعلی سطح کے رہنماؤں سے بات چیت نہیں کر رہا ہے۔ کانگریس کی ضد کے بعد ہفتہ کو سماج وادی پارٹی کے سخت رخ کے بعد ایسا لگا کہ دونوں جماعتیں الگ الگ انتخابات میں اتریں گی، لیکن اس پورے مسئلے میں پرینکا گاندھی کی انٹری کے بعد پورا معاملہ پل بھر میں حل کر لیا گیا۔

یوپی اسمبلی انتخابات: ایک فون کی گھنٹی بجی اور ہو گیا کانگریس ۔ ایس پی میں اتحاد

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو کے درمیان ہوئی بات چیت میں طے ہوا ہے کہ جن نشستوں پر کانگریس کے رکن اسمبلی ہیں، ایس پی وہاں سے اپنے امیدوار واپس لے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی طے ہوا ہے کہ راہل گاندھی اور اکھلیش یادو ایک ساتھ منچ شئیر کر سکتے ہیں۔

اتحاد کرانے میں پرشانت کشور بھی رہے فیل

معلوم ہو کہ سیٹوں کو لے کر پرشانت کشور اور دھیرج شریواستو کی ملاقات اکھلیش سے ہفتے کی شام ہوئی تھی، لیکن اس ملاقات میں کچھ خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ اتوار کو منشور کے اعلان کے بعد اکھلیش کی کئی راؤنڈ دہلی میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سے بات چیت ہوئی، جس کے بعد آخر کار اتحاد پر اتفاق رائے ہو گیا۔

آغاز میں کانگریس نے 120 نشستیں مانگی تھیں، لیکن اکھلیش 100 سیٹوں سے زیادہ دینے کو تیار نہیں تھے۔ لیکن جیسے جیسے بات آگے بڑھی، کانگریس کو 105 اور ایس پی کو 298 نشستوں پر جا کر اتفاق کیا گیا۔

رائے بریلی اور امیٹھی کے علاوہ مغربی اتر پردیش کی کئی سیٹوں کو لے کر تعطل بنا ہوا تھا۔ دراصل، کانگریس چاہتی ہے کہ ان اضلاع کی ساری سیٹیں اتحاد کے تحت کانگریس کو ملیں۔ وہیں سماج وادی پارٹی اس بات کو اس بنیاد پر مسترد کر رہی ہے کہ وہاں ایس پی کے جیتے رکن اسمبلی ہیں۔

اس سے پہلے اتحاد کو لے کر آخری وقت تک کانگریسی رہنماؤں نے امید نہیں چھوڑی تھی۔ پارٹی کے یوپی انچارج اور جنرل سکریٹری غلام نبی آزاد نے صاف کیا کہ ویسے تو پارٹی نے پہلے اور دوسرے مرحلے کے امیدوار فائنل کر دیئے ہیں۔ ان تمام نشستوں پر اکیلے انتخابات لڑنے کی تیاریاں ہو چکی ہیں، لیکن بات چیت کے راستے ابھی بند نہیں ہوئے ہیں۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز