مسلم مذہبی رہنماؤں نے کہا، مغالطہ میں نہ رہے کوئی، آخری وقت میں اپنے پتے کھولیں گے یوپی کے مسلمان

Feb 08, 2017 07:00 PM IST | Updated on: Feb 08, 2017 07:00 PM IST

نئی دہلی۔ خدشات سے بھرے یوپی انتخابات میں مسلم مذہبی رہنماؤں کی بھی اپنی الگ الگ رائے ہے۔ کوئی کسی کے لئے ووٹ کرنے کی بات کہہ رہا ہے تو کوئی کسی ایک پارٹی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کر رہا ہے۔ وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ابھی تک کچھ طے نہیں کیا ہے، لیکن وقت رہتے کچھ نہ کچھ اپیل ضرور کر سکتے ہیں۔ نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام کی ٹیم نے ایسے ہی کچھ مذہبی رہنماؤں سے بات کر انتخابات کے سلسلے میں جانی ان کی اہم رائے۔

یوپی کے اس الیکشن میں کس پارٹی کو ووٹ دینے کے لئے اپیل کریں گے، اس سوال کے جواب میں شاہی جامع مسجد، دہلی کے امام عبداللہ بخاری ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کس کے لئے کریں اور کیوں کریں۔ پارٹیاں تو مسلمانوں کو اپنی جیت میں ڈھول نگاڑے بجانے والا سمجھتی ہیں۔ آخر ابھی تک کسی نے کیا کیا ہے مسلمانوں کے لئے۔ مردہ مسلمانوں کی حفاظت کے لئے ضرور قبرستان کی چہار دیواری کرا دی گئی۔ لیکن اس کے علاوہ کیا کیا۔ کوئی مغالطہ میں نہ رہے۔ اب تک میں نے کچھ کہا تو نہیں ہے لیکن وقت آنے پر میں مسلمانوں سے اتنا ضرور کہوں گا کہ وہ جسے بھی ووٹ دیں، سوچ سمجھ کر دیں۔

مسلم مذہبی رہنماؤں نے کہا، مغالطہ میں نہ رہے کوئی، آخری وقت میں اپنے پتے کھولیں گے یوپی کے مسلمان

گیٹی امیجیز

وہیں شیعہ مذہبی رہنما مولانا ڈاکٹر کلب صادق کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی سیاسی پارٹی کی حمایت میں نہیں بولتے ہیں۔ لیکن ہاں اتنا ضرور ہے کہ جو بھی کام کرنے والا اور اچھا ہو گا، اس کے لئے ضرور اپیل کروں گا۔ ابھی تک تو اپیل نہیں کی ہے، لیکن وقت کا انتظار ہے۔ دوسری طرف مذہبی رہنما كلب جواد کھل کر ایس پی۔ کانگریس اتحاد کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مرکز میں رہی اور دوسری اتر پردیش میں، لیکن دونوں میں سے کسی نے بھی مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اشاروں میں کلب جواد ایک دوسری پارٹی کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن ابھی تک کھل کر انہوں نے اس پارٹی کے لئے نہ تو کوئی اپیل کی ہے اور نہ ہی کوئی بات کہی ہے۔

اس سے الگ ایک دیگر مذہبی رہنما خالد رشید فرنگی محلی کھل کر ایس پی اور کانگریس اتحاد کو ووٹ دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان وزیر اعلی ہونے کے چلتے اکھلیش یادو نے صوبے میں کافی کام کرائے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی ایک مذہب یا ذات کے لئے انہوں نے کچھ کیا ہے یا نہیں۔ ریاست تو سب کا ہے، جو بھی کام ہوگا اس کا فائدہ سب کو ملے گا۔ بہر حال، اب دیکھنا ہوگا کہ انتخابات سے عین وقت پہلے مولانا کلب صادق اور امام عبداللہ بخاری کس طرف کروٹ لیتے ہیں اور کس پارٹی کو ووٹ دینے یا نہ دینے کی اپیل کرتے ہیں۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز