یو پی اسمبلی انتخابات 2017: مسلمانوں پر ڈورے ڈالنے میں کوئی کسی سے کم نہیں

Feb 05, 2017 02:29 PM IST | Updated on: Feb 05, 2017 02:29 PM IST

لکھنؤ۔  اترپردیش اسمبلی  کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے انتخابات میں جیت کے لیے مسلمانوں کے اہم کردار کو ذہن میں رکھتے ہوئے سیاسی پارٹیاں ان پر ڈورے ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ر ہی ہيں۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)، سماج وادی پارٹی (ایس پی) کانگریس، راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) جہاں مسلمانوں کو براہ راست لبھانے میں مصروف ہیں، وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلمانوں کو ترقی کے نام پر اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ دوسری پارٹیوں نے مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھا، ان کی ترقی کے لئے ٹھوس پالیسی نہیں بنائی۔ تاہم، عام طور پر مسلمان بی جے پی کو شکست دینے والے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس بار الیکشن میں بھی یہی عندیہ مل رہا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے پہلے او ر دوسرے مرحلے میں ہونے والی 140 سیٹوں میں 50 سے زائد ایسی سیٹیں ہیں جہاں مسلم ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں مسلمانوں کی آبادی تقریبا 19.3 فیصد ہے لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاست کے مغربی علاقوں میں ان کی آبادی 27.5فیصد ہے۔

اچھی خاصی آبادی کے باوجود اترپردیش سے 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں ایک بھی مسلم نمائندہ منتخب نہیں ہوسکا۔ مسلمانوں میں اس بات پربحث ہوتی رہتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2014 کا پارلیمانی الیکشن پہلا ایسا الیکشن تھا جس میں اس ریاست سے کوئي بھی مسلم نمائندہ لوک سبھا میں نہیں پہنچا ۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں 79 مسلم ممبر اسمبلی منتخب ہوئے تھے جبکہ 2007 میں ان کی تعداد 56 تھی۔ مسلمانوں کی سیاست کرنے والوں کی خواہش ہے کہ 2017 کے انتخابات کے بعد اسمبلی میں مسلم نمائندوں کی تعداد ٹھیک ٹھاک رہے تاکہ ان کے مسائل پر بحث ہو اور ان کے مفاد میں فیصلے کئے جا سکیں۔ اس سلسلے میں غیر بی جے پی جماعتوں نے مسلم ووٹروں کو لبھانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ہے۔

یو پی اسمبلی انتخابات 2017: مسلمانوں پر ڈورے ڈالنے میں کوئی کسی سے کم نہیں

بی ایس پی  سپریمومایاوتی نے سرخیوں میں چھائے رہنے والے ممبر اسمبلی مختار انصاری کی قومی ایکتا پارٹی کو اپنی پارٹی میں ضم کرتے ہوئے مختار انصاری، ان کے بیٹے اور بھائی کو ٹکٹ دے دیا ہے۔ قومی ایکتا پارٹی کی وجہ سے ہی ایس پی میں دراڑ شروع ہوئی تھی اور وزیر اعلی اکھلیش یادو نے مختار انصاری اور ان کی پارٹی کو کسی بھی حالت میں سماج وادی پارٹی میں ضم نہیں کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایس پی- کانگریس گٹھ بندھن اور قومی لوک دل نے بھی کافی مسلم امیدوار اتارے ہیں جبکہ محترمہ مایاوتی نے اپنی پارٹی سے 99 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے۔ رام پور میں سب سے زیادہ 7.2 فیصد مسلم آبادی ہے۔ ضلع رام پور میں دوسرے مرحلہ میں 15 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز