نہیں ملا کوئی ثبوت ، مدرسہ کے پانچوں طلبہ رہا ، دیوبند اور جلال آباد سے حراست میں لیا گیا تھا

Aug 07, 2017 07:34 PM IST | Updated on: Aug 08, 2017 12:01 AM IST

سہارنپور / لکھنؤ: انسداد دہشت گرد ی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے انتہائی پوچھ گچھ کے بعد کل حراست میں لئے گئے مدرسہ کے پانچوں طالب علموں کو آج چھوڑ دیا ہے لیکن پولیس اور خفیہ محکمہ ان پر سخت نگرانی رکھے گا۔ اے ٹی ایس کے ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ برجیش شریواستو کی قیادت والی ٹیم بنگلہ دیش کی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم حرکت الجہادالا اسلامی (ایچ بی ٹی) سے تعلق رکھنے کے الزام میں سہارنپور کے دیوبند میں برسوں سے رہ رہے ایک مسجد کے امام عبداللہ المامون کو کل مظفرنگر کے كٹیسرا گاؤں سے گرفتار کرکے اپنے ساتھ لکھنؤ لے گئی ہے،جہاں اس کے خلاف اے ٹی ایس تھانے میں دہشت گردانہ دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

دریں اثنا، ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل (لااینڈآرڈر) آنند کمار اور اے ٹی ایس کے آئی جی اسیم ارون نے بتایا کہ دیوبند اور جلال آباد مدرسہ کے پانچوں طالب علموں عادل، عبدالرحمان، دانش اور عبدالواسف کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ انہیں کل صبح اے ٹی ایس اور سہارنپور پولیس نے مختلف مقامات سے حراست میں لیا تھا۔ دہشت گرد انہ معاملات میں ان کے ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں پائے جانے پر انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔

نہیں ملا کوئی ثبوت ، مدرسہ کے پانچوں طلبہ رہا ، دیوبند اور جلال آباد سے حراست میں لیا گیا تھا

خیال رہے کہ اے ٹی ایس نے گزشتہ روز مدرسہ کے تین طلبہ دیوبند سے حراست میں لئے تھے۔ ان میں محمد عادل ، دانش اور عبدالواسف کشمیر کے رہنے والے ہیں ۔ دو طلبہ جلال آباد (شاملی) کے مدرسہ جامعہ مفتاح العلوم سے گرفتار کئے گئے تھے۔ ان طالب علموں میں عادل حسین ولد محمد سلیمان باشندہ چيچا ناگاسينا كشتواڑہ جموں و کشمیر اور عبدالرحمان ولد محمد صغیر باشندہ راجوری پونچھ شامل ہے۔

آنند کمار نے بتایا کہ لکھنؤ پہنچنے پر پولیس نے گرفتار کئے گئے عبداللہ سے اے ٹی ایس اور دیگر تفتیشی ایجنسیاں دوبارہ پوچھ گچھ کرے گی۔ جیل بھیجنے کے بعد اسے پوچھ گچھ کے لئے ریمانڈ پر لینے کا کام کرے گی۔ ساتھ ہی فرار دہشت گرد فیضان کوگرفتار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اگر اس کی گرفتاری نہیں ہو پاتی ہے تو اس پر انعام کا اعلان کیا جائے گا۔ دیوبند میں رہنے والے اس بنگلہ دیشی دہشت گرد فیضان کے ٹھکانے سے پولیس کو بم بنانے میں استعمال ہونے والا کیمیکل اور بم بنانے کے طریقہ کار سے متعلق کتاب، رنگین پرنٹر وغیرہ برآمد ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ملے ان پٹ کے مطابق ان دہشت گردوں کے 15 اگست یوم آزادی پر بم دھماکہ کرنے کی اطلاعات تھیں۔ پولیس اور اے ٹی ایس کے لئے بنگلہ دیشی دہشت گرد کو پكڑنا ایک بڑی کامیابی ہے۔

دریں اثنا، سہارنپور کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ ببلو کمار نے بتایا کہ 15 اگست کو ذہن میں رکھتے ہوئے سہارنپور میں پولیس اور خفیہ ایجنسیاں مکمل طور مستعدی برت رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیوبند پر خاص نظر رہے گی۔ انہوں نے شہریوں سے پولیس کو تعاون دینے کی بھی اپیل کی۔

اے ٹی ایس کی حراست سے رہا ہوئے مدرسے کے طالب علموں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران پولیس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور انہیں کسی طرح سے پریشان نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کا دہشت گردوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ کل اے ٹی ایس نے مظفرنگر ضلع کے چرتھاول علاقے کے كٹیسرا گاؤں سے بنگلہ دیشی دہشت گرد عبداللہ المامون کو گرفتار کرنے کے بعد کچھ نوجوانوں کو سہارنپور کے دیوبند اور شاملی ضلع سے پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز