اکھلیش یادو نے دیا اشارہ ، اکثریت نہیں ملنے پر مایاوتی کا ساتھ دینے کو تیار

Mar 09, 2017 09:03 PM IST | Updated on: Mar 09, 2017 09:03 PM IST

لکھنو : اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اس بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ اگر سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد کو اکثریت نہیں ملتی ہے ، تو وہ بہوجن سماج پارٹی سے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ انتخابات کے نتائج سے پہلے وزیر اعلی کا یہ بیان معلق اسمبلی کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔

پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول آ چکے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی سے پہلے آئے اس سروے میں زیادہ تر ایجنسیوں نے یوپی میں بی جے پی کو سب سے بڑی پارٹی کے طور پر دکھایا گیا ہے، لیکن کسی کو بھی اکثریت ملتی نظر آرہی ہے۔

اکھلیش یادو نے دیا اشارہ ، اکثریت نہیں ملنے پر مایاوتی کا ساتھ دینے کو تیار

اکھلیش یادو نے بی بی سی اردو کو انٹرویو میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اگر یوپی اسمبلی انتخابات میں اتحاد کو اکثریت نہیں ملتی ہے تو وہ بی ایس پی کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، 'ہاں اگر حکومت کے لئے ضرورت پڑے گی تو صدر راج کوئی نہیں چاہے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ یوپی کو بی جے پی ریموٹ کنٹرول سے چلائے۔

نیوز 18 کے رپورٹر امت تیواری سے بات چیت کرتے ہوئے یوپی بی جے پی کے ترجمان وجے بہادر پاٹھک نے کہا کہ ہماری پارٹی 225 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے۔ اکھلیش کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی تو پہلے ہی کہتی تھی کہ بوا اور بھتیجے ساتھ ساتھ ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز