نوجوان ووٹرس لانا چاہتے ہیں اترپردیش میں اس بار انقلاب

Jan 31, 2017 05:39 PM IST | Updated on: Jan 31, 2017 05:39 PM IST

لکھنؤ۔اترپردیش میں نوجوان ووٹرزصاف اشارے دے رہے ہیں کہ اب انہیں مذہب، ذات پات اتحاد اور مندر مسجد کے نام پر ٹھگا نہیں جاسکے گا ۔ ووٹ ضررو دیا جائے گا لیکن کسی پارٹی اورمذہب کےنام پر نہیں۔  ترقی اورتحفظ کے نام پر ووٹ بینک کے تعلق سے  سبھی  سیاسی جماعتوں کی اپنی دعویداریاں اور قیاس آرائیاں ہیں لیکن نئے ووٹرز نے ان سبھی سیاسی ٹھیکیداروں ، مذہبی رہنمائوں کو پریشان کردیا ہے، جو جذباتی  اور مذہبی موضوعات کی بنیاد پرسیاسی مسندیں اور اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ذاتی مفاد کے لیے لوگوں کا سیاسی استحصال کرتے ہیں۔ ان سب کی باتوں کو نظر انداز کر اب نئی نسل کے لوگ اپنے انداز سے سوچ رہے ہیں ۔

اب سبھی لوگ اپنی ترقی کےخواب دیکھ رہے ہیں۔ تحفظ کو یقینی بنا کراپنی نسلوں کے مستقبل کو روشن کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں مندر۔ مسجد کی نہیں اب اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی زیادہ ضرورت ہے ۔ انہیں اب نفرت کی نہیں محبت اور امن کی تلاش ہے۔ وہ اب فسادات سے پاک ایسے سماج میں سانس لینا چاہتے ہیں جہاں شانتی ہو، ایکتا ہو ۔ اتحاد ہو وکاس ہو ۔ کہا جاتاہے سوچ بدلے گی  تو ملک بدلے گا۔ اگر ریاست اور ملک کی ترقی ہوگی تو تمام قوموں ا و رمذہبوں کے لوگ  خوشگوار زندگی گزار سکیں گے اس لئے نئی نسل پارٹیوں میں یقین نہ رکھ کر اچھے امیدواروں کی تلاش میں ہیں ۔

نوجوان ووٹرس لانا چاہتے ہیں اترپردیش میں اس بار انقلاب

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز