بابری مسجد-رام مندر معاملہ میں صرف سیاسی فائدے کیلئے مداخلت کی کوشش ، انہیں کچھ بھی کہنے کا حق نہیں : عزیز قریشی

Nov 05, 2017 03:56 PM IST | Updated on: Nov 05, 2017 04:01 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش ،اتراکھنڈ اور میزورم کے سابق گورنر عزیز قریشی نے موجودہ ماحول پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کہ جب منہدم بابری مسجد میں نماز روکی گئی تھی تب معروف ہندو رہنما اکچھئے برہمچاری اس وقت کے وزیراعظم پندت جوہر لال نہرو کے تین مورتی ہاؤس کے سامنے جاکر نماز روکے جانے کی مخالفت کی تھی ۔ مسٹر قریشی نے کہا کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ پر ہندو اور مسلمانوں دونوں کو بھروسہ ہے ، انہوں نے کہا کہ سپر یم کورٹ کے فیصلے کا دونوں خیر مقدم کر یں گے۔

مسٹر قریشی نے کہا کہ جو اب اس معاملے میں مداخلت کی کوشش کر رہے ہیں وہ سیا سی فوائد کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ سابق گورنر نے کہا کی دراصل یہ لوگ ملک کو گمراہ کر رہے ہیں ان کو اس معاملے میں کچھ بھی کہنے کا حق نہیں ہے۔ مسٹر قریشی نے کہا کہ انہوں بھی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اگر رام مندر کا کوئی ثبوت ہو تو پیش کریں اور اگر مندر کے حق میں ثبوت ہے تو رام مندر کی تعمیر ہو۔

بابری مسجد-رام مندر معاملہ میں صرف سیاسی فائدے کیلئے مداخلت کی کوشش ، انہیں کچھ بھی کہنے کا حق نہیں : عزیز قریشی

انہوں نے کہا کہ جو لوگ وندے ماترم گانے کے لئے مجبور کرتے ہیں اور گانے سے انکار کرتے ہیں دونوں ہی بے قوف ہیں ۔ یو این آئی سے خصوصی انٹرویو میں میں سابق گورنر نے کہا وہ اپنے اسکول کے دنوں میں قومی گیت گاتے تھے۔ لیکن اگر کوئی مجھے اسکو گانے پر مجبور کرے گا تو میں نہیں گاؤنگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مجھے بندے ماترم میں کچھ بھی غیر اسلامی نہیں لگتا ہے، مسٹر قریشی نے بتایا کہ مسلم علمااور دا نشوروں بشمول موالانا آزاد نے موجودہ قومی گیت میں کچھ اشارہ جو اسلامی عقائد کے خلاف تھے میں ترمیم کے ساتھ گانے کو کہا تھا کہ اسکو گانے پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔مولانا محمد علی جوہر یو نیورسٹی کے تنازعہ پر مسٹر قریشی نے کہا کہ میرے پاس اسمبلی سے منظر شدہ بل تھا۔ میں نے قانونی پہلوؤں پر مشورہ کے بعد ہی اسے منظوری دی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز