امریکہ میں اچھی نوکری چھوڑ کر نگر پنچایت کا الیکشن لڑنے گاؤں پہنچا انجینئر

Nov 18, 2017 12:31 PM IST | Updated on: Nov 18, 2017 12:31 PM IST

بلیا۔ ویسے تو ہر ماں باپ کا خواب ہوتا ہے کہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر بیرون ملک میں اچھی ملازمت کرے۔ لیکن اترپردیش کے بلیا کا ایک نوجوان ایسا بھی ہے جو امریکہ سے انجینئرنگ کی اعلی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہاں کی اچھی نوکری کو ٹھکرا کر اپنے گاؤں کی ترقی کے لئے واپس لوٹ آیا ہے۔ اپنے آبائی گاؤں منير کو ترقی یافتہ بنانے کا جنون اس قدر سر چڑھا ہے کہ امریکہ کی اچھی نوکری چھوڑ کر اب اپنی چاچی کو نگر پنچایت کا الیکشن لڑوانے کے لئے گاؤں آیا ہے۔

یہ پورا معاملہ بلیا کے منير تھانہ علاقہ کے نگر پنچایت منير کا ہے۔ یہاں کے رہنے والے کانگریسی لیڈر کے بیٹے آکرشک تومر امریکہ سے اعلی تعلیم حاصل کر کے وہاں پر ملازمت کر رہے تھے۔ لیکن تومر کے ذہن میں گاؤں اور نگر پنچایت کی ترقی کے لئے کچھ کر گزرنے کا ایسا جذبہ بیدار ہوا کہ وہ امریکہ کی اپنی ہائی پروفائل انجینئرنگ کی ملازمت کو چھوڑ کر گاؤں آ گئے ہیں۔

امریکہ میں اچھی نوکری چھوڑ کر نگر پنچایت کا الیکشن لڑنے گاؤں پہنچا انجینئر

اب ان کی لڑائی گاوں والوں کو ان کا حق دلانے کی ہے۔ اس وجہ سے وہ نگر پنچایت کے انتخابات میں اپنی چاچی کے لئے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ تومر نے انتخابی مہم کی کمان خود سنبھال لی ہے۔ وہ نگر پنچایت کی گلیوں میں گھوم ۔ گھوم کر گاؤں والوں کی امید کا نگر پنچایت بنانے کے لئے انہیں کے انداز میں ووٹ مانگ رہے ہیں۔

تومر کی انتخابی مہم چلانے کی ادا کو بھی نگر پنچایت کے عوام خوب پسند کر رہے ہیں۔ تومر کہتے ہیں کہ جب وہ یہاں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ یہاں کچھ بھی ترقی نہیں ہوئی۔ جو جیسا تھا وہ ویسا ہی ہے۔ اس سے مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ تومر نے کہا کہ ان کا تعلق جس خاندان سے ہے، اس کے لئے انہیں پیسہ کمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ سیاست میں کام کرنے کے لئے آئے ہیں۔

تومر نے کہا، "ابھی میں تو لوگوں سے ایک موقع دینے کے لئے کہہ رہا ہوں۔ میں پیشہ سے انجینئر ہوں، جس کی وجہ سے میرے پاس تکنیکی علم ہے جس کا استعمال میں علاقے کی ترقی کے لئے کرنا چاہتا ہوں۔ "

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز