یوپی بلدیاتی انتخابات :  سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کو ستارہی ہے اکھیلیش یادو کی کمی

Nov 19, 2017 06:11 PM IST | Updated on: Nov 19, 2017 06:11 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش میں میونسیپل کارپوریشن انتخابات میں پورے زور شور سے موجود بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جےپی)سے مل رہے سخت چیلنج کا سامنا کررہی اہم اپوزیشن سماجوادی پارٹی کے امیدوار اپنے صدر اور سابق وزیراعلی اکھیلیش یادو کے انتخابی تشہیر سے غائب رہنے کے پریشان نظر آرہے ہیں۔تین مراحل میں ہونے والے انتخابات میں پہلے مرحلے میں انتخابی تشہیر کل شام ختم ہوگی۔اس مرحلے میں ریاست کے 24اضلاع میں 22نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)کی صدر نے بھی الیکشن میں تشہیری مہم سے خود کو دور رکھا ہوا ہے حالانکہ پہلی بار پارٹی نے امیدواروں کو سخت شرطوں کے ساتھ اپنا انتخابی نشان ’ہاتھی‘دیا ہے۔الیکشن میں ’سائکل‘پر سوار کچھ سماجوادی امیدوار مسٹر اکھیلیش یادو کی غیر موجودگی سے اس قدر پریشان ہیں کہ انہوں نے کہہ دیا ہے ،’’لگتا ہے کہ سماجوادی پارٹی نے الیکشن سے پہلے ہی بی جےپی سے ہار مان کر اسے واک اوور دے دیا ہے۔‘‘سماجوادی پارٹی اپنے انتخابی نشان سائکل کے ساتھ میدان میں ہے حالانکہ مسٹر یادو نے انتخابی تشہیر سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور تشہیر کی کمان دوسرے درجے کے لیڈران کے حوالے کی ہے۔

یوپی بلدیاتی انتخابات :  سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کو ستارہی ہے اکھیلیش یادو کی کمی

اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو: فائل فوٹو، رائٹرز۔

مسٹر یادو نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ امیدواروں کےلئے پارٹی کے سینئر لیڈر تشہیر کررہے ہیں اور ا ن کی تشہیر کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں ہے۔دوسری جانب پارٹی ذرائع نے بتایا کہ کچھ امیدواروں نے مسٹر یادو کی رکن پارلیمنٹ اہلیہ ڈمپل یادو سے تشہیر کےلئے آگے آنے کی درخواست کی تھی لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا۔وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے انتخابی تشہیر میں شرکت کے سلسلے میں مسٹر یادو نے کہا کہ اجودھیا سمیت دیگر علاقوں میں سماجوادی پارٹی کے امیدواروں سے مل رہے مضبوط چیلنج کی وجہ سے ہی وزیراعلی روایت سے ہٹ کر خود تشہیر کی کمان سنبھالنے کےلئے مجبور ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز