اترپردیش بلدیاتی انتخابات: سیکورٹی کے سخت انتظامات کے بیچ دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ جاری

Nov 26, 2017 11:23 AM IST | Updated on: Nov 26, 2017 11:23 AM IST

لکھنؤ۔ اترپردیش میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے پارلیمانی حلقوں اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) بانی ملائم سنگھ یادو کے آبائی شہر اٹاوہ سمیت 25 اضلاع میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان صبح ساڑھے سات بجے سے پولنگ شروع ہو گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے پارلیمانی حلقوں میں پولنگ ہونے کی وجہ سے دوسرا مرحلہ برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لئے انتہائی اہم ہے. اسی طرح ملائم سنگھ یادو کے آبائی شہر اٹاوہ میں ووٹنگ ہونے کی وجہ سے ایس پی کے لیے بھی یہ مرحلہ کافی معنی رکھتا ہے۔

شہر کارپوریشنز کے انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) استعمال کیا جا رہا ہے۔ میونسپلٹی کونسل اور نگر پنچایت کا الیکشن ووٹ کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔بیشتر پولنگ مراکز پر صبح سے ہی ووٹروں کی قطاریں لگنی شروع ہو گئی تھیں۔ اگرچہ کچھ پولنگ مراکز پر نسبتا بھیڑ کم دکھائی دی۔ دو پولنگ اسٹیشنوں پر ای وی ایم میں خرابی آئی تھی لیکن بروقت مشینوں کوٹھیک کر لیا گیا. ووٹنگ میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی. شام پانچ بجے تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔ بلدیاتی انتخابات کے اس مرحلے میں 25 اضلاع کے چھ شہر کارپوریشنز، 51 شہر پالیکاؤں اور 132 شہر پنچایتوں میں پولنگ ہو رہی ہے. اس میں مجموعی طور پر 189باڈیز کے 3601 وارڈوں میں 13777 پولنگ مراکز ہیں۔

اترپردیش بلدیاتی انتخابات: سیکورٹی کے سخت انتظامات کے بیچ  دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ جاری

متھرا میں ایک 80 سالہ بزرگ خاتون نے دیا ووٹ۔

اس مرحلے میں تقریبا ایک کروڑ 29 ہزار ووٹر زہیں۔ اس میں چھ میئر کے عہدے کے لئے 42 خواتین سمیت 83 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے. 51 نگرپالیکاؤں کے صدر کے عہدے کے لئے 638 امیدوار میدان میں ہیں۔

دوسرے مرحلہ میں مظفرنگر، غازی آباد، گوتم بدھ نگر، امروہہ، رام پور، پیلی بھیت، شاہ جہاں پور، علی گڑھ، متھرا، مین پوری، فرخ آباد، اٹاوہ، للت پور، باندہ، الہ آباد، لکھنؤ، سلطان پور، امبیڈکر نگر، بہرائچ، شراوستی، سنت كبيرنگر، دیوریا، بلیا ، وارانسی اور بھدوہی میں پولنگ ہو رہی ہے۔ اسی مرحلہ میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) بانی ملائم سنگھ یادو اور ان کے بیٹے اور سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کے آبائی ضلع اٹاوہ میں بھی ووٹنگ ہے، اس لئے یہ مرحلہ ایس پی کے لیے بھی اہم ہے۔ مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے پارلیمانی حلقہ غازی آباد کے ساتھ ساتھ سنگم شہر الہ آباد میں میئر کے عہدہ کا انتخاب بھی اسی مرحلے میں شامل ہیں۔ ریاست الیکشن کمشنر ایس کے اگروال نے بتایا کہ سیکورٹی کے پیش نظر بہت سi بوتھوں کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمرے سے کی جا رہی ہے. تمام انتخابی حلقوں میں سیکورٹی کے لیے چاک چوبند انتظامات کئے گئے ہیں۔ دس فیصد پولنگ مراکز کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی. انتظامیہ نے شراب کی دکانوں کو بند کرنے کے احکامات دیئے ہیں. جن اضلاع میں انتخابات ہونا ہے ان کی سرحدوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

لا اینڈ آرڈر کو چاق و چوبند رکھنے کی ذمہ داری 80 ہزار سکیورٹی کے جوانوں پر ہے، جن میں مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی 40 کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

یہ ب بلدیاتی انتخابات بی جے پی کے لئے کتنا اہم ہے، اس بات کو اسی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ انتخابات کے دوران انتخابی مہم کی کمان خود وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھی ہے اور وہ انتخابی ریلیوں کو مسلسل خطاب کر رہے ہیں. اس لئے سیاسی مبصرین اس الیکشن کو مسٹر یوگی کی سخت آزمائش طور پر دیکھ رہے ہیں۔

پارٹی کے ریاستی صدر مهیندرناتھ پانڈے کے ساتھ ساتھ تمام سینئر بی جے پی لیڈر انتخابی مہم میں پوری سرگرمی کے ساتھ شامل ہورہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے ب بلدیات انتخابات میں پرچار کی باگ ڈور پارٹی میں دوسری قطار کے رہنماؤں کو دے رکھی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد اور راج ببر نے ریاست کے صرف چند حصوں میں انتخابی عوامی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔ تین مراحل کی انتخابی عمل میں آخری مرحلے کی پولنگ 29 نومبر کو ہوگی۔ یکم دسمبر کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی اور اسی روز تمام نتائج آنے کا امکان ہے۔

اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پانچ میئر سیٹوں کے ساتھ 24 اضلاع میں بدھ کو ہونے والی ووٹنگ میں52.68فیصد لوگوں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ وارانسی میونسپل چیت گنج وارڈ سے کانگریس امیدوار انل کمار شریواستو کی موت کی وجہ سے وہاں پولنگ نہیں ہو رہی ہے۔ اس علاقے میں بعد میں پولنگ کرائی جائے گی۔ پولنگ مراکز كے آس پاس پان مسالہ وغیرہ کے کھانے پر سختی سے پابندی لگائی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز