یوپی کے مسلمانوں کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نظرانداز کئے جانے کا الزام

May 11, 2017 12:10 PM IST | Updated on: May 11, 2017 12:10 PM IST

لکھنؤ۔ اترپردیش کے مسلم طبقے کی مایوسیوں اور محرومیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ لوگوں میں یہ احساس پنپ رہا ہے کہ انہیں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دینے والی بی جے پی بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے جس سے کمزورو اور پسماندہ مسلم سماج کو کچھ راحت مل سکے۔

بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی بڑے زور وشور سے یہ دعوے اور وعدے کیے گئے تھے کہ سماج کے آخری آدمی تک زندگی کی بنیادی سہولیات پہنچائی جائیں گی ۔ بات چاہے مرکز کی مودی سرکا رکی ہو یا اتر پردیش کی یوگی سرکار کی ، مسلم طبقے کے لیے کسی نے کچھ نہیں کیا۔ علماء ودانشور مانتے ہیں کہ ترقی اور وکاس میں تو مسلم سماج کی شمولیت صرف ایک خواب ہے۔ اس کے برعکس  بر سراقتدار لوگ ایسے منصوبے ترتیب دے رہے ہیں جن سے غریب وپریشان حال لوگوں کی زندگی پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ ترقی کی بات کرنے والے لوگ طلاق کے پیچھے پڑ گئے ہیں کیونکہ اس سے ارباب سیاست کو اسلام اور مسلمانوں پر تنقید وتوہین کے مواقع فراہم ہو رہے ہیں ۔

یوپی کے مسلمانوں کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نظرانداز کئے جانے کا الزام

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز