جملہ ثابت ہوا بی جے پی کا نعرہ، 213 امیدواروں کی فہرست میں ایک بھی مسلمان نہیں

بی جے پی نے یوپی میں 149 اور اتراکھنڈ میں 64 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی ہے لیکن اس میں کسی بھی مسلم کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔

Jan 17, 2017 01:51 PM IST | Updated on: Jan 17, 2017 01:51 PM IST

نئی دہلی۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس۔ بی جے پی کا یہ نعرہ انتخابی مہم کے دوران اکثر سننے کو ملتا ہے۔ لیکن زمینی حقیقت اس سے الگ ہے۔ اگر آپ یوپی اور اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی کی جاری پہلی فہرست پر نظر ڈالیں تو ایک بھی مسلم امیدوار نظر نہیں آئے گا۔

بی جے پی نے یوپی میں 149 اور اتراکھنڈ میں 64 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی ہے لیکن اس میں کسی بھی مسلم کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ یہ صورت حال تب ہے جب پارٹی میں ایک لمبی مدت سے اقلیتی مورچہ بھی سرگرم ہے۔ سنگھ کے تابع رہ کر مسلم راشٹریہ منچ بھی کہیں نہ کہیں زمین پر بی جے پی کی ہی مدد کرتا ہے۔ پی ایم مودی بھی اکثر اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو تحفظ کا بھروسہ دیتے ہوئے بی جے پی کو مسلمانوں کی ہمدرد بتانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

جملہ ثابت ہوا بی جے پی کا نعرہ، 213 امیدواروں کی فہرست میں ایک بھی مسلمان نہیں

Loading...

یوپی-اتراکھنڈ سمیت 213 امیدواروں کی فہرست میں ایک بار پھر بی جے پی نے بھروسہ جتانے کے موقع پر مسلمانوں کو مایوس کیا ہے۔ 2012 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں بھی صرف ایک مسلم کو ہی بدایوں سے ٹکٹ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بی جے پی کو 403 اسمبلی سیٹوں والے یوپی میں ایک بھی ایسا مسلمان نہیں چہرہ نہیں ملا تھا جسے وہ انتخابی میدان میں اتار سکے۔

اس بار بھی مغربی اتر پردیش کے دو مراحل سے متعلق امیدواروں کی فہرست جاری ہو چکی ہے، لیکن پارٹی کو کوئی بھروسے والا مسلم چہرہ نہیں ملا۔ جبکہ سیاسی ماہرین کی مانیں تو یوپی میں مغربی اترپردیش ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ مسلم رہتے ہیں۔

دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق سنبھل میں 77.67، امروہہ میں 73.80، رام پور میں 50.57، مرادآباد میں 46.79، بدایوں میں 43.94، دیوبند میں 71.06 اور کیرانہ شہر میں 80.74 فیصد مسلم رہتے ہیں۔ ساتھ ہی ایک درجن سے زیادہ ایسی سیٹیں بھی ہیں جہاں کسی بھی پارٹی کا ساتھ  ملنے پر مسلم ووٹ فیصلہ کن کردار میں آ جاتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی پارٹی کو ایک عدد مسلم امیدوار انتخابی میدان میں کھڑا کرنے کو نہیں ملا۔

اس بارے میں بی جے پی اقلیتی مورچہ کے یوپی ریاستی صدر حیدر عباس چاند بتاتے ہیں کہ صرف سنبھل اور مراد آباد سے دو مسلم امیدواروں نے ٹکٹ مانگا تھا۔ لیکن کسی وجہ سے ان کو ٹکٹ نہیں دیا جا سکا۔ وہیں جو مسلم آبادی والے اسمبلی علاقے ہیں وہاں سے کسی مسلم نے پارٹی سے ٹکٹ مانگا ہی نہیں۔

ناصر حسین

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز