راہل پر حملے کے سلسلہ میں کانگریس کا ہنگامہ، لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی

Aug 08, 2017 02:51 PM IST | Updated on: Aug 08, 2017 02:51 PM IST

نئی دہلی۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی پر چار اگست کو گجرات کے بناسكانٹھا میں ہونے والے حملے کے سلسلے میں کانگریسی ارکان کے ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا میں آج کوئی کام کاج نہیں ہوا اور ایوان کی کارروائی ایک بار ملتوی کے بعد دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ صبح ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر اسپیکر سمترا مہاجن نے مسٹر كھڑگے کو گجرات معاملے پر بولنے کی اجازت دی۔ مسٹر كھڑگے نے الزام لگایا کہ مسٹر گاندھی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پتھر بازی ہوتی ہے تو اسے دہشت گرد واقعہ کہا جاتا ہے تو کیا گجرات میں مسٹر گاندھی کی گاڑی پر جو حملہ کیا گیا وہ کشمیر سے آنے والے دہشت گردوں کی کرتوت ہے۔ ان کا اتنا کہتے ہی حکمراں فریق کے ارکان نے مخالفت کی اور اس کے بعد کانگریسی اور حکمراں طبقے کے ارکان کے درمیان نوك جھونك شروع ہو گئی۔ شورشرابے کو دیکھتے ہوئے ایوان کی کارروائی 12 تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ بارہ بجے جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو کانگریس کے ارکان نے مسٹر گاندھی پر گجرات میں ہوئے حملے کو لے کر دوبارہ ہنگامہ شروع کر دیا۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے ضروری دستاویز ایوان میں پیش ركھوائے اور اس کے بعد وقفہ صفر کا اعلان کیا۔

دریں اثنا ہنگامہ تیز ہونے پر پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ مسٹر گاندھی خصوصی پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) کے حفاظت کے قوانین پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ ان کو لیکر اپوزیشن کے اعتراضات بے بنیاد ہیں، ترنمول کانگریس کے سدیپ بندو پادھيائے نے کہا کہ مسٹر گاندھی پر حملہ عدم برداشت کی علامت ہے۔ اس کی مذمت کی جانی چاہیے لیکن مسٹر گاندھی کو بھی حفاظت کے قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔ شور شرابے کے درمیان ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اجے مشرا ٹیني نے لکھیم پور میں مجاہدین آزادی کی ایک یادگار کی تعمیر کئے جانے کا مطالبہ کیا جبکہ اسی پارٹی کی محترمہ میناکشی لیکھی نے کیرالہ میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں کی سیاسی ہلاکتوں کا معاملہ اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ جن لوگوں کے گھر جلائے گئے ہیں، انہیں مناسب معاوضہ دیا جائے۔ اسپیکر بار بار کی درخواست کے باوجود ہنگامہ نہ تھمنےمحترمہ مہاجن نے ایوان کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس طرح سے لوک سبھا میں آج کوئی کام کاج نہیں ہوسکا۔

راہل پر حملے کے سلسلہ میں کانگریس کا ہنگامہ، لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی

مسٹر کھڑگے نے حکمراں فریق کی مخالفت پر کہا، ’’اگر آپ کے لیڈر پر پتھر چلتے تو کیسا لگتا؟‘‘ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تشدد کی بات کرتے ہیں، گوڈسے کی بات کرتے ہیں۔ ہم عدم تشدد اور گاندھی جی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصیبت میں پھنسے لوگوں تک جانا اور ان کا دكھ سكھ جاننا کوئی گناہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آٹھ اگست کو گاندھی جی نے 75 سال پہلے فیصلہ کن ’بھارت چھوڑو‘ تحریک کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی جمہوریت کی تعمیر عدم تشدد کی بنیاد پر ہوگی جس میں سب کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے لیکن یہاں تو نفرت پھیلائي جارہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنہوں نے پتھر بازی کی ان پر کارروائی کی جائے اور بی جے پی اس کے لیے معافی مانگے۔ اس پر حکمراں طبقہ کے ارکان نے ہنگامہ کیا لیکن وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مسٹر کھڑگے طرف سے اٹھائے گئے مسائل کا سخت جواب دیا اور کہا کہ اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) کی حفاظت لیس مسٹر گاندھی ملک کی قیمتی ورثہ ہیں لیکن وہ جان بوجھ کر تحفظ سے متعلق مشورہ کی بار بار خلاف ورزی کرتے ہیں جو نہ صرف ایس پی جی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ وہ اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مسٹر سنگھ نے گجرات حملے کی سلسلہ وار طریقے سے جواب دیا اور کہا کہ مسٹر گاندھی کی حفاظت کے لئے گجرات حکومت نے دو بلٹ پروف گاڑیاں مہیا كرائي تھیں لیکن وہ ایس پی جی سیکورٹی افسر کی بات ماننے کی بجائے اپنے نجی سکریٹری کے مشورہ پر غیر محفوظ ٹويوٹو فارچيونر میں سوار ہو گئے۔ ایس پی جی گارڈوں کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر سیکورٹی سنبھالنی پڑی۔ ریاستی حکومت نے ان کی حفاظت کے لئے دو پولیس اہلکار، چھ ڈی ایس پہ، سات انسپکٹر، 20 سب انسپکٹر، 236 حولدار اور 134 ریاستی مسلح پولیس فورس اہلکار تعینات کئے تھے۔ اگر وہ خود ہی سیکورٹی ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے تو پھر کوئی بھی چاق چوبند بندوبست بیکار ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سال میں مسٹر گاندھی نے 121 بار طے شدہ اور غیرطے شدہ اندرونی دورے کئے جن میں یہ سو دوروں میں انہوں نے ایس پی جی سیکورٹی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ چھ بار 72 دنوں کے لئے بیرون ملک سفر پر ایس پی جی حفاظتی کور چھوڑ کر گئے ہیں۔ اس انتہائی سنگین بات کو کانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی، کانگریس ہیڈکوارٹر اور مسٹر گاندھی کے سامنے اٹھایا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آخر مسٹر گاندھی ایس پی جی حفاظتی کور سے باہر جاکر کیا چھپانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ان پر پتھر پھینکے جانے کے واقعہ کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور اضافی پولیس ڈائریکٹر جنرل سطح کے افسر کو تفتیش کا کام سونپا ہے۔ اس معاملے میں ایک گرفتاری بھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پتھر کسی پر بھی پھینکا جائے، بدقسمتی کی بات ہے۔ اسے ہرگز مناسب نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز