راجیہ سبھا انتخابات میں نوٹا کے متبادل پر ایوان میں کانگریس سمیت پورے اپوزیشن کا ہنگامہ

Aug 01, 2017 03:40 PM IST | Updated on: Aug 01, 2017 03:40 PM IST

نئی دہلی۔ راجیہ سبھا انتخابات میں نوٹا کا متبادل ہونے کے معاملے پر راجیہ سبھا میں آج کانگریس سمیت پورے اپوزیشن نے زبردست شور و غل کیا جس سے وقفہ سوالات نہ ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ چیئرمین حامد انصاری نے وقفہ سوالات شروع کرنے کیلئے متعلقہ رکن کا نام لیا تو کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے رولنگ کا سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن نے راجیہ سبھا انتخابات میں نوٹا کا متبادل استعمال کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کے انتخابات کا عمل جاری ہے اور یہ ضابطہ آئین میں درج ہے۔ کمیشن کا ایگزیکٹو آرڈر آئین میں ترمیم نہیں کرسکتا۔ یہ حکم غیرآئینی اور غیر قانونی ہے۔ ایوان کو اس پر فوراً بحث کرانی چاہئے اور حکومت کو اس پر وضاحت پیش کرنی چاہئے۔

دریں اثنا مسٹر انصاری نے کہا کہ یہ وقت وقفہ سوالات کا ہے اور اس وقت اس موضوع پر بحث کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس پر کانگریس کے اراکین اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوگئے اور اپوزیشن کے کئی اراکین نے بھی مسٹر شرما کی حمایت کی۔ چیئرمین نے اراکین سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر غور کریں گے۔ ایوان کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ ایگزیکٹیو آرڈر سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے مطابق ہے اور آئین کا آرٹیکل 324 کمیشن کو الیکشن کے سلسلے میں حکم جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے احکامات کی جانچ ایوان نہیں کرسکتا۔ اس کیلئے عدالت جانا چاہئے۔ اس کے بعد ایوان میں شورو غل شروع ہوگیا اور چیئرمین نے ایوان کی کارروائی 12 بجکر 12 منٹ پر 10 منٹ کیلئے ملتوی کردی۔

راجیہ سبھا انتخابات میں نوٹا کے متبادل پر ایوان میں کانگریس سمیت پورے اپوزیشن کا ہنگامہ

التوا کے بعد ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع کرتے ہوئے مسٹر انصاری نے کہا کہ یہ وقت وقفہ سوال کیلئے ہے اور اراکین کو وقفہ سوالات چلنے دینا چاہئے۔ لیکن ایوان میں پھر شور و غل شروع ہوگیا۔ سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال نے کہاکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ اس پر فوری بحث ہونی چاہئے۔ راجیہ سبھا انتخابات میں نوٹا کا کوئی استعمال نہیں ہے۔ ’دل بدل‘ قانون نافذ ہے۔ نوٹا کا متبادل استعمال کرنے پر رکنیت ختم ہوسکتی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو نے پوچھا کہ کیا حکومت راجیہ سبھا الیکشن رد کرانا چاہتی ہے۔ گجرات سے ملک کے تین اہم افراد انتخابی میدان میں ہیں اور اس کے دوررس نتائج ہوں گے۔ اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ فیصلہ گجرات میں راجیہ سبھا کے انتخابات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اس مسئلہ پر شور و غل کے سبب مسٹر انصاری نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک کیلئے ملتوی کردی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز